Skip to content

Khwaja Mir Dard

حال مجھ غم زدہ

حال مجھ غم زدہ کا جس جس نے

جب سنا ہوگا رو دیا ہوگا

Explanation: شاعر کے مصائب اور دکھ اتنے شدید اور دردناک ہیں کہ وہ کہتا ہے میری زندگی کی تلخ داستان جس کسی نے بھی سنی ہوگی، وہ بے اختیار رو پڑا ہوگا۔

کھل نہیں سکتی ہیں

کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مری

جی میں یہ کس کا تصور آ گیا

Explanation: محبوب کا تصور اس قدر حسین اور دل میں رچ بس جانے والا ہے کہ شاعر اسے اپنے دھیان میں دیکھ کر ایسا کھو گیا ہے کہ اب وہ آنکھیں کھول کر بیرونی دنیا کو دیکھنا ہی نہیں چاہتا۔

وحدت میں تیری حرف

وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آ سکے

آئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے

Explanation: خدا کی یکتائی کا بیان ہے کہ کائنات میں تیرے جیسا کوئی اور نہیں ہو سکتا، یہاں تک کہ آئینے کی بھی یہ اوقات نہیں کہ وہ تیرے بے مثال حسن کا عکس دکھا سکے۔

ہم تجھ سے کس

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں

دل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں

Explanation: مسلسل مصائب سے دل اس قدر مایوس اور بے حس ہو چکا ہے کہ اب وہ آسمان (قسمت) سے کوئی نئی خواہش یا امید نہیں کر سکتا، کیونکہ تمنا کرنے والا دل ہی مر چکا ہے۔

ذکر میرا ہی وہ

ذکر میرا ہی وہ کرتا تھا صریحاً لیکن

میں نے پوچھا تو کہا خیر یہ مذکور نہ تھا

Explanation: محبوب کی جھوٹی انا کا بیان ہے، وہ محفل میں واضح طور پر عاشق ہی کا تذکرہ کر رہا تھا، لیکن جب عاشق نے سامنے آ کر پوچھا تو وہ فورا مکر گیا کہ نہیں، میں کسی اور کی بات کر رہا تھا۔

دردؔ کچھ معلوم ہے

دردؔ کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب

کس طرف سے آئے تھے کیدھر چلے

Explanation: یہ دنیا کی بے ثباتی اور زندگی کے راز پر ایک صوفیانہ سوال ہے کہ یہ تمام انسان کہاں سے پیدا ہو کر اس دنیا میں آئے تھے، اور موت کے بعد نامعلوم کس منزل کی طرف چلے جاتے ہیں۔

آگے ہی بن کہے

آگے ہی بن کہے تو کہے ہے نہیں نہیں

تجھ سے ابھی تو ہم نے وے باتیں کہی نہیں

Explanation: محبوب کی بے رخی اور جلد بازی کا ذکر ہے کہ عاشق نے ابھی اپنے دل کی مدعا بیان بھی نہیں کی تھی کہ محبوب نے پہلے ہی بغیر سنے انکار کرنا شروع کر دیا۔

دل بھی اے دردؔ

دل بھی اے دردؔ قطرۂ خوں تھا

آنسوؤں میں کہیں گرا ہوگا

Explanation: غم کی شدت سے رونے کی کیفیت ہے کہ عاشق کا دل جو محض خون کا ایک قطرہ تھا، وہ ان بے تحاشا بہنے والے آنسوؤں کے ساتھ ہی پگھل کر آنکھوں سے بہہ گیا ہوگا۔

رات مجلس میں ترے

رات مجلس میں ترے حسن کے شعلے کے حضور

شمع کے منہ پہ جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا

Explanation: محبوب کے حسن کو شمع پر فضیلت دی گئی ہے کہ محبوب کا چہرہ اس قدر روشن اور چمکدار تھا کہ اس کے سامنے محفل میں جلنے والی شمع کی روشنی بھی بالکل بے نور اور مدھم لگ رہی تھی۔

باوجودے کہ پر و

باوجودے کہ پر و بال نہ تھے آدم کے

وہاں پہنچا کہ فرشتے کا بھی مقدور نہ تھا

Explanation: یہ واقعہِ معراج اور انسان کی روحانی عظمت کا بیان ہے کہ انسان کے پاس فرشتوں جیسے اڑنے والے پر نہیں تھے، پھر بھی اس نے روحانیت میں وہ بلندی پا لی جہاں فرشتوں کی بھی رسائی نہیں۔

ایک ایمان ہے بساط

ایک ایمان ہے بساط اپنی

نہ عبادت نہ کچھ ریاضت ہے

Explanation: شاعر خدا کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرتا ہے کہ میرے پاس تجھے پیش کرنے کے لیے کوئی بڑی عبادت یا نیکیاں نہیں ہیں، میری کل جمع پونجی محض تیری ذات پر میرا سچا ایمان ہے۔

ساقی مرے بھی دل

ساقی مرے بھی دل کی طرف ٹک نگاہ کر

لب تشنہ تیری بزم میں یہ جام رہ گیا

Explanation: شاعر ساقی (خدا یا مرشد) سے نظرِ کرم کی التجا کر رہا ہے کہ تیری اس بھری محفل میں ہر کوئی فیض یاب ہو رہا ہے، ذرا مجھ پیاسے پر بھی نگاہ کر کہ میں ابھی تک محروم ہوں۔

ساقیا! یاں لگ رہا

ساقیا! یاں لگ رہا ہے چل چلاؤ

جب تلک بس چل سکے ساغر چلے

Explanation: یہ زندگی کی ناپائیداری کا احساس ہے، شاعر کہتا ہے کہ دنیا سے جانے کا وقت قریب ہے، اس لیے جب تک سانس باقی ہے، مجھے خدا کی محبت اور سرمستی کا جام پلاتے رہو۔

روندے ہے نقش پا

روندے ہے نقش پا کی طرح خلق یاں مجھے

اے عمر رفتہ چھوڑ گئی تو کہاں مجھے

Explanation: بڑھاپے اور بے بسی کا شکوہ ہے کہ گزرا ہوا وقت کہاں چلا گیا، اب تو دنیا والے مجھے راستے میں پڑے مٹی کے نشان کی طرح روندتے ہوئے اور حقیر سمجھ کر گزر جاتے ہیں۔

دل بھی تیرے ہی

دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہے

آن میں کچھ ہے آن میں کچھ ہے

Explanation: محبوب کی متلون مزاجی کا اثر اب عاشق کے دل پر بھی ہو گیا ہے، جس طرح محبوب لمحے میں بدل جاتا ہے، عاشق کا دل بھی ویسے ہی بے قرار اور لمحہ بھر میں رنگ بدلنے والا ہو گیا ہے۔

نے گل کو ہے

نے گل کو ہے ثبات نہ ہم کو ہے اعتبار

کس بات پر چمن ہوس رنگ و بو کریں

Explanation: یہ دنیا کی بے ثباتی کا ذکر ہے کہ جب نہ اس دنیا کے پھولوں نے ہمیشہ رہنا ہے اور نہ ہماری زندگی کا کوئی بھروسہ ہے، تو پھر ہم اس دنیا کی عارضی خوشبوؤں اور رنگوں کی لالچ کیوں کریں۔

کمر خمیدہ نہیں بے

کمر خمیدہ نہیں بے سبب ضعیفی میں

زمین ڈھونڈتے ہیں وہ مزار کے قابل

Explanation: بڑھاپے میں کمر جھک جانے کو ایک خوبصورت استعارہ دیا گیا ہے، کہ بوڑھے کی کمر کمزوری سے نہیں جھکتی، بلکہ وہ جھک کر اپنے دفن ہونے کے لیے زمین پر ایک مناسب جگہ تلاش کر رہا ہوتا ہے۔

تجھی کو جو یاں

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا

برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا

Explanation: خدا کی ذات سے محبت کا اظہار ہے کہ اگر اس دنیا میں آ کر ہم نے ہر طرف تیرا جلوہ اور تیری قدرت نہیں پہچانی، تو پھر ہمارا اس دنیا کو دیکھنا اور نہ دیکھنا بالکل برابر ہے۔

سلطنت پر نہیں ہے

سلطنت پر نہیں ہے کچھ موقوف

جس کے ہاتھ آئے جام وہ جم ہے

Explanation: خوشی اور سرمستی کے لیے دنیاوی بادشاہت (جمشید جیسا بادشاہ ہونا) ضروری نہیں، جو شخص بھی اللہ کی محبت اور قناعت کا جام پی لے، وہ خود کو دنیا کا سب سے بڑا بادشاہ محسوس کرتا ہے۔

تہمت چند اپنے ذمے

تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے

جس لیے آئے تھے ہم کر چلے

Explanation: زندگی کی لاحاصلی کا بیان ہے کہ دنیا میں انسان بڑے مقاصد لے کر آتا ہے، مگر انجام کار وہ صرف چند گناہوں اور تہمتوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا کر اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔