دونوں جہان کی نہ
دونوں جہان کی نہ رہی پھر خبر اسے
دو پیالے تیری آنکھوں نے جس کو پلا دئے
Explanation: محبوب کی نشیلی نگاہوں کا کمال ہے کہ جس شخص نے ان آنکھوں کی مستی کا ایک بار دیدار کر لیا، وہ دیوانہ ہو گیا اور اسے پھر دنیا اور آخرت کسی چیز کا کوئی ہوش نہ رہا۔
سیر بہار باغ سے
سیر بہار باغ سے ہم کو معاف کیجیئے
اس کے خیال زلف سے دردؔ کسے فراغ ہے
Explanation: شاعر کو دنیاوی بہار اور باغ کی سیر میں کوئی دلچسپی نہیں، کیونکہ وہ اپنے محبوب کی زلفوں اور اس کے حسن کے دھیان میں اس قدر کھویا ہوا ہے کہ اسے کسی اور چیز کے لیے فرصت ہی نہیں۔
ہم بھی جرس کی
ہم بھی جرس کی طرح تو اس قافلے کے ساتھ
نالے جو کچھ بساط میں تھے سو سنا چلے
Explanation: دنیا کے قافلے کے ساتھ شاعر کے سفر کا انجام یہ ہے کہ جس طرح قافلے کی گھنٹی صرف روتی اور شور مچاتی ہے، ہم بھی اس زندگی کے سفر میں اپنے حصے کا محض رونا رو کر رخصت ہو گئے۔
زلفوں میں تو سدا
زلفوں میں تو سدا سے یہ کج ادائیاں ہیں
آنکھوں نے پر یہ اور ہی آنکھیں دکھائیاں ہیں
Explanation: محبوب کی زلفیں تو پہلے بھی الجھن اور تکلیف کا باعث تھیں، لیکن اب کی بار اس کی آنکھوں میں جو غرور، بے رخی اور غصہ ہے، وہ عاشق کے لیے ایک بالکل نئی اور جان لیوا اذیت ہے۔
جاتی تو ہے تو
جاتی تو ہے تو زلف کے کوچے میں اے صبا
پر دیکھیو جو چھیڑے کسی بے دماغ کو
Explanation: شاعر ہوا (صبا) کو نصیحت کر رہا ہے کہ تو محبوب کی زلفوں سے کھیلنے جا تو رہی ہے، مگر دھیان رکھنا کیونکہ محبوب بہت مغرور اور غصے والا (بے دماغ) ہے، کہیں وہ تیرے چھیڑنے پر خفا نہ ہو جائے۔
