Skip to content

Khwaja Mir Dard

باغ جہاں کے گل

باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں

گر یار ہیں تو ہم ہیں اغیار ہیں تو ہم ہیں

Explanation: یہ 'وحدت الوجود' کا فلسفہ ہے جس میں خدا کے جلوے کو ہر شے میں تسلیم کیا گیا ہے، کہ اس دنیا کی اچھائی ہو یا برائی، دوست ہوں یا دشمن، ان سب کے روپ میں دراصل وہی ایک ذات موجود ہے۔

گلی سے تری دل

گلی سے تری دل کو لے تو چلا ہوں

میں پہنچوں گا جب تک یہ آتا رہے گا

Explanation: محبوب کی گلی سے واپس جانے کی مجبوری اور دل کی کیفیت ہے، عاشق جسمانی طور پر تو وہاں سے چلا گیا ہے لیکن اس کا دل بار بار محبوب کی گلی کی طرف بھاگتا ہے۔

آنکھیں بھی ہائے نزع

آنکھیں بھی ہائے نزع میں اپنی بدل گئیں

سچ ہے کہ بے کسی میں کوئی آشنا نہیں

Explanation: موت کے وقت (نزع کی حالت میں) اپنوں کی بے حسی اور تنہائی کا انتہائی دکھ بھرا پہلو ہے کہ جن آنکھوں (حواس) پر انسان کو بھروسہ ہوتا ہے وہ بھی آخری وقت میں بے وفا ہو کر پھر جاتی ہیں۔

قتل عاشق کسی معشوق

قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا

پر ترے عہد سے آگے تو یہ دستور نہ تھا

Explanation: محبوب کے ظلم پر طنز ہے کہ عاشقوں کو تڑپانا اور قتل کرنا تو پرانی روایت ہے، لیکن جس بے دردی سے تو نے ہمارا قتل کیا ہے، تیرے زمانے سے پہلے ایسا ظلم کبھی نہیں ہوا تھا۔

غیر کے دل میں

غیر کے دل میں نہ جا کیجئے گا

میری آنکھوں میں رہا کیجئے گا

Explanation: عاشق کی شدید غیرت اور محبت کی التجا ہے کہ خدارا رقیبوں اور غیروں کے دلوں میں جگہ مت بناؤ، بلکہ ہمیشہ میری نظروں کے سامنے اور میری محبت کے حصار میں رہو۔

یک بہ یک نام

یک بہ یک نام لے اٹھا میرا

جی میں کیا اس کے آ گیا ہوگا

Explanation: عاشق کو اس بات پر انتہائی خوشگوار حیرت ہے کہ جو محبوب کبھی اس کی طرف توجہ نہیں دیتا تھا، اس نے اچانک بھری محفل میں عاشق کا نام لے لیا، نجانے اس کے دل میں کیا محبت جاگ اٹھی۔

دردؔ کے ملنے سے

دردؔ کے ملنے سے اے یار برا کیوں مانا

اس کو کچھ اور سوا دید کے منظور نہ تھا

Explanation: شاعر اپنے ملنے کی وجہ بیان کر رہا ہے کہ اے محبوب! میرے آنے پر ناراض مت ہو، میری نیت میں کوئی کھوٹ نہیں تھا، میں تو محض تیرا دیدار کرنے کی غرض سے آیا تھا۔

یارب یہ کیا طلسم

یارب یہ کیا طلسم ہے ادراک و فہم یاں

دوڑے ہزار آپ سے باہر نہ جا سکے

Explanation: یہ انسان کی عقل اور سمجھ بوجھ کی محدودیت کا بیان ہے کہ انسان چاہے کائنات کے جتنے مرضی اسرار جاننے کی کوشش کر لے، وہ اپنی انسانی عقل کے دائرے سے باہر نہیں جا سکتا۔

غافل خدا کی یاد

غافل خدا کی یاد پہ مت بھول زینہار

اپنے تئیں بھلا دے اگر تو بھلا سکے

Explanation: یہ انسان کو روحانیت کی تلقین ہے کہ دنیا کی مستی میں خدا کو ہرگز نہ بھولنا، اگر تم کچھ بھولنا ہی چاہتے ہو تو اپنی ذات اور غرور کو بھول کر خدا میں فنا ہو جاؤ۔

ظالم جفا جو چاہے

ظالم جفا جو چاہے سو کر مجھ پہ تو ولے

پچھتاوے پھر تو آپ ہی ایسا نہ کر کہیں

Explanation: عاشق محبوب کو خبردار کر رہا ہے کہ مجھ پر جو مرضی ظلم ڈھا لے مجھے پرواہ نہیں، لیکن اتنا زیادہ ظلم مت کر کہ میرے مرنے کے بعد تجھے خود ہی اپنے کیے پر پچھتانا پڑ جائے۔

درد تو جو کرے

درد تو جو کرے ہے جی کا زیاں

فائدہ اس زیان میں کچھ ہے

Explanation: شاعر اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ عشق میں تو جو اپنی جان کو مسلسل نقصان اور اذیت پہنچا رہا ہے، کیا واقعی اس مستقل دکھ کا آخر میں کوئی فائدہ بھی ہوگا یا نہیں؟

ٹک خبر لے کہ

ٹک خبر لے کہ ہر گھڑی ہم کو

اب جدائی بہت ستاتی ہے

Explanation: یہ محبوب سے ایک انتہائی سیدھی اور معصومانہ التجا ہے کہ اب مجھ سے یہ ہجر مزید برداشت نہیں ہوتا، آ کر میری خبر لو کیونکہ تمہاری جدائی مجھے ہر پل اذیت دے رہی ہے۔

بند احکام عقل میں

بند احکام عقل میں رہنا

یہ بھی اک نوع کی حماقت ہے

Explanation: یہ تصوف اور عشق کا نظریہ ہے کہ ہر وقت صرف دنیاوی عقل اور منطق کے فیصلوں پر چلنا بھی دراصل ایک بہت بڑی بیوقوفی ہے، کیونکہ کچھ حقیقتیں عقل سے بالا ہوتی ہیں۔

نہ رہ جاوے کہیں

نہ رہ جاوے کہیں تو زاہدا محروم رحمت سے

گنہ گاروں میں سمجھا کریو اپنی بے گناہی کو

Explanation: یہ غرور اور تقویٰ پر چوٹ ہے کہ اے پرہیزگار! اپنی نیکیوں پر اس قدر غرور نہ کر کہ تو خدا کی رحمت سے ہی دور ہو جائے، بہتر ہے کہ تو خود کو بھی گنہگاروں جیسا ہی سمجھے۔

نالہ فریاد آہ اور

نالہ فریاد آہ اور زاری

آپ سے ہو سکا سو کر دیکھا

Explanation: عاشق کی بے بسی اور ہار کا اعتراف ہے کہ محبوب کو منانے کے لیے ہم نے رونا، فریاد کرنا اور منتیں کرنے کے تمام طریقے آزما لیے مگر کوئی بھی حربہ کام نہ آیا۔

مت جا تر و

مت جا تر و تازگی پہ اس کی

عالم تو خیال کا چمن ہے

Explanation: یہ دنیا کے فریب کا بیان ہے کہ دنیا کی ظاہری خوبصورتی اور تازگی پر دھوکہ مت کھا، یہ پوری کائنات محض ایک خیالی اور غیر حقیقی باغ ہے جس کا کوئی مستقل وجود نہیں۔

ہو گیا مہماں سرائے

ہو گیا مہماں سرائے کثرت موہوم آہ

وہ دل خالی کہ تیرا خاص خلوت خانہ تھا

Explanation: خدا کی دوری کا دکھ ہے کہ وہ دل جو صرف تیرے لیے وقف تھا، اب وہ دنیا کی جھوٹی اور عارضی خواہشات کی مہمان سرائے بن چکا ہے اور اس کی پاکیزگی ختم ہو گئی ہے۔

خلق میں ہیں پر

خلق میں ہیں پر جدا سب خلق سے رہتے ہیں ہم

تال کی گنتی سے باہر جس طرح روپک میں سم

Explanation: صوفی کے معاشرے میں رہنے کا انداز بیان ہوا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان رہتا ضرور ہے مگر روحانی طور پر ان سے الگ اور بلند ہوتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے موسیقی میں 'سم' کا مقام گنتی سے الگ ہوتا ہے۔

ہمیں تو باغ تجھ

ہمیں تو باغ تجھ بن خانۂ ماتم نظر آیا

ادھر گل پھاڑتے تھے جیب روتی تھی ادھر شبنم

Explanation: محبوب کے بغیر خوشیوں کا ماحول بھی ماتم لگتا ہے، باغ میں کھلے ہوئے پھولوں کو دیکھ کر ایسا لگا جیسے وہ ماتم میں اپنے کپڑے پھاڑ رہے ہوں، اور شبنم آنسو بہا رہی ہو۔

قتل سے میرے وہ

قتل سے میرے وہ جو باز رہا

کسی بد خواہ نے کہا ہوگا

Explanation: یہ محبوب کی مستقل دشمنی اور بدگمانی کا ذکر ہے کہ اس نے مجھے قتل کرنا اس لیے چھوڑ دیا کیونکہ کسی دشمن نے اسے بتایا ہوگا کہ میرے مرنے سے مجھے عشق کے دکھوں سے نجات اور سکون مل جائے گا۔