Skip to content

Mir Taqi Mir

ہاتھ رکھے رہتا ہوں

ہاتھ رکھے رہتا ہوں دل پر برسوں گزرے ہجراں میں

ایک دن ان نے گلے سے مل کر ہاتھ میں میرا دل نہ لیا

Explanation: عاشق نے جدائی کے سالوں میں بڑی حفاظت سے اپنا دل سینے میں چھپا کر رکھا تھا، مگر جب مدتوں بعد محبوب سے ملاقات ہوئی اور اس نے گلے لگایا تو وہ ظالم شاعر کے دل کی دھڑکن اور اس کی محبت کو محسوس کرنے میں ناکام رہا۔

شمع جو آگے شام

شمع جو آگے شام کو آئی رشک سے جل کر خاک ہوئی

صبح گل تر سامنے ہو کر جوش شرم سے آب ہوا

Explanation: محبوب کا حسن فطرت کے تمام مظاہر پر بھاری ہے، جب شمع نے اسے دیکھا تو وہ حسد کی آگ میں جل مری، اور جب صبح کے تازہ کھلے پھول نے اس کی خوبصورتی دیکھی تو وہ شرمندگی سے پسینہ پسینہ (آب) ہو گیا۔

بس اے گریہ آنکھیں

بس اے گریہ آنکھیں تری کیا نہیں ہیں

کہاں تک جہاں کو ڈبوتا رہے گا

Explanation: رونے کی شدت اور آنسوؤں کے سیلاب کا استعارہ ہے کہ شاعر کی آنکھوں سے اتنے آنسو بہہ رہے ہیں کہ وہ خود اپنی آنکھوں کو کہتا ہے کہ اب بس کر دو، کیا تم اپنے آنسوؤں کے سمندر میں پوری کائنات کو غرق کرنا چاہتی ہو۔

گلی تک تیری لایا

گلی تک تیری لایا تھا ہمیں شوق

کہاں طاقت کہ اب پھر جائیں گھر تک

Explanation: محبت کی کمزوری اور دیوانگی کا ذکر ہے کہ ہم اپنے دل کے شوق کی وجہ سے تمہاری گلی تک تو کھنچے چلے آئے، مگر یہاں آ کر اور تمہارے دروازے پر گرنے کے بعد اب ہمارے جسم میں اتنی طاقت نہیں بچی کہ ہم واپس اپنے گھر جا سکیں۔

آہوں کے شعلے جس

آہوں کے شعلے جس جا اٹھتے تھے میرؔ سے شب

واں جا کے صبح دیکھا مشت غبار پایا

Explanation: عشق میں جل کر راکھ ہونے کی مکمل تصویر ہے کہ رات بھر جس جگہ میر کی درد بھری آہوں کی آگ بھڑک رہی تھی، جب صبح کے وقت لوگوں نے جا کر دیکھا تو وہاں میر کے وجود کی بجائے صرف ایک مٹھی بھر راکھ کا ڈھیر پڑا تھا۔

یا رب کسے ہے

یا رب کسے ہے ناقہ ہر غنچہ اس چمن کا

راہ وفا کو ہم تو مسدود جانتے ہیں

Explanation: دنیا میں محبت اور وفا کی کمیابی پر طنز ہے، شاعر کہتا ہے کہ اس باغ (دنیا) کا ہر پھول کس چیز کی تلاش میں بھٹک رہا ہے، کیونکہ ہمارے نزدیک تو وفا اور سچے عشق کا راستہ کب کا مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔

موا میں سجدے میں

موا میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا

اس آستاں پہ مری خاک سے غبار رہا

Explanation: محبوب کی گلی سے عقیدت کی انتہا ہے کہ عاشق کی موت محبوب کی چوکھٹ پر سجدے کی حالت میں ہوئی، اور اس کے مرنے کے بعد بھی اس کی خاک اسی چوکھٹ پر اڑتی رہی تاکہ اس کی محبت کا نشان قائم رہے۔

نگاہ مست نے اس

نگاہ مست نے اس کی لٹائی خانقہ ساری

پڑا ہے برہم اب تک کارخانہ زہد و طاعت کا

Explanation: حسن کے سحر نے پرہیزگاری کو شکست دے دی ہے، محبوب کی نشیلی نگاہوں کا ایسا جادو چلا کہ خانقاہ میں بیٹھے تمام نمازی اور عبادت گزار اپنی عبادتیں بھول گئے اور مذہب کا پورا نظام درہم برہم ہو گیا۔

کیا درد و غم

کیا درد و غم نے مجھے ناامید

کہ مجنوں کو یہ ہی تھیں بیماریاں

Explanation: شاعر کو اپنی حالت دیکھ کر مجنوں کی یاد آتی ہے، وہ سمجھ گیا ہے کہ اسے بھی محبت کے انہی جان لیوا روگ اور بیماریوں نے گھیرا ہوا ہے جنہوں نے مجنوں کی جان لی تھی، اس لیے اب اسے اپنی زندگی کی کوئی امید نہیں رہی۔

کیوں نہ دیکھوں چمن

کیوں نہ دیکھوں چمن کو حسرت سے

آشیاں تھا مرا بھی یاں پرسال

Explanation: یہ بچھڑے ہوئے وطن یا چھنے ہوئے مقام کا نوحہ ہے، پرندہ کٹے ہوئے درختوں (چمن) کو حسرت سے دیکھتے ہوئے کہتا ہے کہ میں اسے کیوں نہ دیکھوں، پچھلے سال اسی جگہ تو میرا بھی گھونسلا آباد تھا۔

جی اگر زلفوں کے

جی اگر زلفوں کے سودے میں ترے دوں تو نہ بول

پہلی قیمت کے تئیں مشک بہا کہتے ہیں

Explanation: محبوب کی خوشبودار زلفوں کی قیمت عاشق کی جان سے لگائی گئی ہے، شاعر کہتا ہے کہ اگر میں تمہاری زلفوں کے بدلے اپنی جان بھی دے دوں تو یہ سودا میرے حق میں بہت سستا ہے کیونکہ تمہاری زلفوں کی قیمت کستوری (مشک) سے بھی زیادہ ہے۔

ہجر کی شب کو

ہجر کی شب کو یاں تئیں تڑپا

کہ ہوا صبح ہوتے میرا وصال

Explanation: جدائی کی رات کی طوالت اور اذیت کو برداشت کرنا انسان کے بس سے باہر تھا، عاشق رات بھر درد سے اس قدر تڑپتا رہا کہ جب تک صبح کی روشنی نمودار ہوئی، تب تک عاشق کی جان نکل (وصال) چکی تھی۔

خط و کاکل و

خط و کاکل و زلف و انداز و ناز

ہوئیں دام رہ صد گرفتاریاں

Explanation: محبوب کی خوبصورتی کے مختلف حصوں کو جال اور قید خانے کے طور پر بیان کیا گیا ہے، عاشق کہتا ہے کہ محبوب کے گال کا سبزہ، زلفیں اور اس کی ادائیں، یہ سب وہ شکاری جال ہیں جن میں سینکڑوں لوگ بخوشی گرفتار ہو جاتے ہیں۔

فرشتہ جہاں کام کرتا

فرشتہ جہاں کام کرتا نہ تھا

مری آہ نے برچھیاں ماریاں

Explanation: انسان کی آہ اور سچے درد کی طاقت کو فرشتوں سے بھی بالا ثابت کیا گیا ہے، شاعر کہتا ہے کہ آسمانوں کے جن دروازوں پر فرشتے بھی داخل ہونے سے ڈرتے تھے، میری درد بھری دعاؤں (آہوں) نے ان بند دروازوں کو بھی توڑ ڈالا۔