ہاتھ رکھے رہتا ہوں
ہاتھ رکھے رہتا ہوں دل پر برسوں گزرے ہجراں میں
ایک دن ان نے گلے سے مل کر ہاتھ میں میرا دل نہ لیا
شمع جو آگے شام
شمع جو آگے شام کو آئی رشک سے جل کر خاک ہوئی
صبح گل تر سامنے ہو کر جوش شرم سے آب ہوا
بس اے گریہ آنکھیں
بس اے گریہ آنکھیں تری کیا نہیں ہیں
کہاں تک جہاں کو ڈبوتا رہے گا
گلی تک تیری لایا
گلی تک تیری لایا تھا ہمیں شوق
کہاں طاقت کہ اب پھر جائیں گھر تک
آہوں کے شعلے جس
آہوں کے شعلے جس جا اٹھتے تھے میرؔ سے شب
واں جا کے صبح دیکھا مشت غبار پایا
یا رب کسے ہے
یا رب کسے ہے ناقہ ہر غنچہ اس چمن کا
راہ وفا کو ہم تو مسدود جانتے ہیں
موا میں سجدے میں
موا میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا
اس آستاں پہ مری خاک سے غبار رہا
نگاہ مست نے اس
نگاہ مست نے اس کی لٹائی خانقہ ساری
پڑا ہے برہم اب تک کارخانہ زہد و طاعت کا
کیا درد و غم
کیا درد و غم نے مجھے ناامید
کہ مجنوں کو یہ ہی تھیں بیماریاں
کیوں نہ دیکھوں چمن
کیوں نہ دیکھوں چمن کو حسرت سے
آشیاں تھا مرا بھی یاں پرسال
جی اگر زلفوں کے
جی اگر زلفوں کے سودے میں ترے دوں تو نہ بول
پہلی قیمت کے تئیں مشک بہا کہتے ہیں
ہجر کی شب کو
ہجر کی شب کو یاں تئیں تڑپا
کہ ہوا صبح ہوتے میرا وصال
خط و کاکل و
خط و کاکل و زلف و انداز و ناز
ہوئیں دام رہ صد گرفتاریاں
فرشتہ جہاں کام کرتا
فرشتہ جہاں کام کرتا نہ تھا
مری آہ نے برچھیاں ماریاں
