Skip to content

Mir Taqi Mir

دھولا چکے تھے مل

دھولا چکے تھے مل کر کل لونڈے میکدے کے

پر سرگراں ہو واعظ جاتا رہا سٹک کر

Explanation: واعظ (مذہبی پیشوا) کی منافقت پر طنز ہے کہ جب وہ میخانے میں پکڑا گیا تو مے خانے کے لڑکوں نے مل کر اس کی خوب پٹائی کی، اور پھر وہ شرمندگی سے سر جھکا کر چپ چاپ وہاں سے کھسک گیا۔

روئے سخن ہے کیدھر

روئے سخن ہے کیدھر اہل جہاں کا یا رب

سب متفق ہیں اس پر ہر ایک کا خدا ہے

Explanation: مذہبی اختلافات پر ایک گہرا طنز ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب آپس میں لڑتے ہیں مگر اس ایک بات پر سب کا اتفاق ہے کہ خدا موجود ہے، شاعر حیران ہے کہ پھر یہ آپس کی جنگ کس بات کی ہے۔

ہاں خدا مغفرت کرے

ہاں خدا مغفرت کرے اس کو

صبر مرحوم تھا عجب کوئی

Explanation: میر اپنے ختم ہوتے ہوئے صبر پر فاتحہ پڑھ رہے ہیں کہ اب مجھ میں درد سہنے کا حوصلہ باقی نہیں رہا، میرا صبر مر چکا ہے، خدا اسے بخشے وہ واقعی کمال کی چیز تھی۔

آگ سی اک دل

آگ سی اک دل میں سلگے ہے کبھو بھڑکی تو میرؔ

دے گی میری ہڈیوں کا ڈھیر جوں ایندھن جلا

Explanation: شاعر کے سینے میں عشق اور غم کی جو آگ خاموشی سے سلگ رہی ہے، اسے ڈر ہے کہ جس دن وہ آگ بھڑکی، وہ لکڑیوں کی طرح اس کی ہڈیوں کو بھی جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دے گی۔

بس اے میرؔ مژگاں

بس اے میرؔ مژگاں سے پونچھ آنسوؤں کو

تو کب تک یہ موتی پروتا رہے گا

Explanation: میر مسلسل رونے پر خود کو تسلی دیتے ہیں کہ اب اپنے ان قیمتی آنسوؤں (موتیوں) کو بہانا بند کر دو، آخر تم کب تک غم میں گھلتے رہو گے، اب اس کیفیت سے باہر آنا چاہیے۔

میر اس قاضی کے

میر اس قاضی کے لونڈے کے لیے آخر موا

سب کو قضیہ اس کے جینے کا تھا بارے چک گیا

Explanation: میر کی دیوانگی کا المیہ ہے کہ ان کا عشق قاضی کے بیٹے کے لیے ان کی موت کا سبب بن گیا، دنیا والوں کو ان کی اس پاگلوں جیسی زندگی سے شکایت تھی، چلو مرنے کے بعد وہ مسئلہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔

شہر دل ایک مدت

شہر دل ایک مدت اجڑا بسا غموں میں

آخر اجاڑ دینا اس کا قرار پایا

Explanation: دل کے بار بار ٹوٹنے اور سنبھلنے کی کشمکش کا اختتام ہے کہ میرا دل محبت کے زخموں سے آباد اور برباد ہوتا رہا، مگر آخر کار اس کی قسمت میں ہمیشہ کے لیے ویران ہو جانا ہی لکھا تھا۔

کچھ نہیں بحر جہاں

کچھ نہیں بحر جہاں کی موج پر مت بھول میرؔ

دور سے دریا نظر آتا ہے لیکن ہے سراب

Explanation: دنیا کی ظاہری چمک دمک کا دھوکہ بیان کیا گیا ہے، شاعر کہتا ہے کہ اس دنیا کی رونقوں پر کبھی اعتبار نہ کرنا، یہ دور سے دریا کی طرح کشش رکھتی ہے لیکن قریب جانے پر یہ محض ریت کا دھوکہ (سراب) ثابت ہوتی ہے۔

کیا جانئے کہ عشق

کیا جانئے کہ عشق میں خوں ہو گیا کہ داغ

چھاتی میں اب تو دل کی جگہ ایک درد ہے

Explanation: محبت کی ناکامی نے دل کو اس قدر تباہ کر دیا ہے کہ شاعر کو پتا نہیں کہ اس کا دل پگھل کر خون بن گیا یا جل کر سیاہ داغ بن گیا، اب تو سینے میں دل دھڑکنے کے بجائے صرف ایک مستقل درد دھڑکتا محسوس ہوتا ہے۔

احوال میرؔ کیوں کر

احوال میرؔ کیوں کر آخر ہو ایک شب میں

اک عمر ہم یہ قصہ تم سے کہا کریں گے

Explanation: میر کے دکھوں کی داستان اتنی طویل اور گہری ہے کہ اسے ایک رات کی مختصر محفل میں سنانا ناممکن ہے، اس کہانی کو مکمل کرنے کے لیے تو پوری زندگی اور صدیاں درکار ہوں گی۔

منہ کھولے تو روز

منہ کھولے تو روز ہے روشن زلف بکھیرے رات ہے پھر

ان طوروں سے عاشق کیوں کر صبح کو اپنی شام کریں

Explanation: محبوب کا روشن چہرہ (دن) اور کالی زلفیں (رات) عاشق کے لیے کائنات کا نظام بن چکی ہیں، جب عاشق کے صبح اور شام کا فیصلہ محبوب کے حسن سے ہو، تو پھر وہ فطرت کے نظام کو کیسے مانے گا۔

رہا تھا دیکھ اودھر

رہا تھا دیکھ اودھر میر چلتے

عجب اک ناامیدی تھی نظر میں

Explanation: میر کے رخصت ہونے کا انتہائی اداس منظر ہے جب وہ آخری بار مڑ کر محبوب کی گلی کی طرف دیکھ رہے تھے، اور ان کی ان آخری نظروں میں ایک ایسی دردناک مایوسی اور حسرت تھی جسے بھلایا نہیں جا سکتا۔

سرمہ جو نور بخشے

سرمہ جو نور بخشے ہے آنکھوں کو خلق کی

شاید کہ راہ یار کی ہی خاک دھول ہو

Explanation: محبوب کی گلی کی خاک کی عقیدت اور کمال ہے کہ جس سرمے کو لگا کر لوگوں کی آنکھوں کی روشنی اور خوبصورتی بڑھتی ہے، وہ سرمہ دراصل میرے محبوب کے راستے کی مٹی کے علاوہ کچھ نہیں۔

مرتا تھا میں تو

مرتا تھا میں تو باز رکھا مرنے سے مجھے

یہ کہہ کے کوئی ایسا کرے ہے ارے ارے

Explanation: عاشق اپنی جان دینے لگا تھا لیکن محبوب کی ایک پیار بھری مگر جھوٹی ڈانٹ (کہ ارے ارے یہ تم کیا کر رہے ہو) نے اسے موت کے منہ سے واپس موڑ لیا، یہ محبت میں محبوب کی بات پر اندھا یقین ہے۔

جیسے بجلی کے چمکنے

جیسے بجلی کے چمکنے سے کسو کی سدھ جائے

بے خودی آئی اچانک ترے آ جانے سے

Explanation: محبوب کے اچانک سامنے آ جانے کے سحر اور خوف کو آسمانی بجلی کی چمک سے تشبیہ دی گئی ہے، جس کے گرنے سے انسان کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے۔

دل نہ پہنچا گوشۂ

دل نہ پہنچا گوشۂ داماں تلک

قطرۂ خوں تھا مژہ پر جم رہا

Explanation: یہ عشق میں مایوسی اور ناکامی کی تصویر ہے کہ عاشق کا خون روتا ہوا دل اتنا کمزور تھا کہ وہ محبوب کے قدموں (دامن) تک بھی نہ پہنچ سکا اور محض آنکھوں کی پلکوں پر ایک آنسو بن کر سوکھ گیا۔

گر پرستش خدا کی

گر پرستش خدا کی ثابت کی

کسو صورت میں ہو بھلا ہے عشق

Explanation: عشق کو مذہب سے بھی بالاتر قرار دیا گیا ہے، شاعر کہتا ہے کہ چاہے مجاز کا ہو یا حقیقت کا، عشق ہر صورت میں ایک عظیم جذبہ ہے کیونکہ یہی وہ واحد راستہ ہے جو سچے دل سے خدا کی پہچان اور پرستش سکھاتا ہے۔

گر اس کے اور

گر اس کے اور کوئی گرمی سے دیکھتا ہے

اک آگ لگ اٹھے ہے اپنے تو تن بدن میں

Explanation: عاشق کی شدید غیرت اور جنون کا عالم یہ ہے کہ اگر کوئی تیسرا شخص اس کے محبوب کی طرف پیار یا کشش کی نظر سے دیکھ بھی لے، تو عاشق کے پورے جسم میں حسد اور غصے کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔

بزم عشرت میں ملامت

بزم عشرت میں ملامت ہم نگوں بختوں کے تئیں

جوں حباب بادہ ساغر سرنگوں ہو جائے گا

Explanation: بدقسمت عاشقوں کا ذکر ہے کہ دنیا کی خوشیوں بھری محفل میں بھی ہم سر جھکا کر ذلت سہتے رہیں گے، جس طرح شراب کے پیالے میں اٹھنے والا بلبلہ تھوڑی دیر بعد خود ہی ٹوٹ کر فنا ہو جاتا ہے۔

کپڑے گلے کے میرے

کپڑے گلے کے میرے نہ ہوں آب دیدہ کیوں

مانند ابر دیدۂ تر اب تو چھا گیا

Explanation: عاشق کے مسلسل رونے کی شدت کا بیان ہے کہ آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش اب اس طرح برس رہی ہے جیسے کالے بادل چھا گئے ہوں، اسی لیے میرے گریبان کے کپڑے ہمیشہ آنسوؤں سے گیلے رہتے ہیں۔