Skip to content

Mir Taqi Mir

عالم عالم عشق و

عالم عالم عشق و جنوں ہے دنیا دنیا تہمت ہے

دریا دریا روتا ہوں میں صحرا صحرا وحشت ہے

Explanation: عشق میں ملنے والی اذیت کی لا محدودیت کا بیان ہے کہ دنیا کی ہر طرف سے مجھ پر تہمتیں لگ رہی ہیں، اور میرے رونے اور پاگل پن کا عالم یہ ہے کہ میرے آنسو سمندروں کی طرح اور وحشت ریگستانوں جیسی ہے۔

سمجھے تھے ہم تو

سمجھے تھے ہم تو میر کو عاشق اسی گھڑی

جب سن کے تیرا نام وہ بیتاب سا ہوا

Explanation: میر کے عشق کا راز کھلنے کا تذکرہ ہے کہ لوگوں کو میر کی محبت کا یقین اسی وقت ہو گیا تھا، جب محفل میں اچانک محبوب کا نام آنے پر میر کے چہرے پر گھبراہٹ اور شدید بے قراری ظاہر ہو گئی تھی۔

کتنی باتیں بنا کے

کتنی باتیں بنا کے لاؤں لیک

یاد رہتیں ترے حضور نہیں

Explanation: عاشق گھر سے محبوب کو سنانے کے لیے ڈھیروں شکوے اور باتیں سوچ کر جاتا ہے، لیکن محبوب کے سامنے پہنچتے ہی اس کے حسن کی ہیبت سے وہ سب کچھ بھول جاتا ہے اور زبان گنگ ہو جاتی ہے۔

چاہ کا دعویٰ سب

چاہ کا دعویٰ سب کرتے ہیں مانیں کیوں کر بے آثار

اشک کی سرخی منہ کی زردی عشق کی کچھ تو علامت ہو

Explanation: سچے عشق کی پہچان بتائی گئی ہے کہ محض زبانی محبت کے دعوے پر کوئی یقین نہیں کر سکتا، جب تک عاشق کی خون روتی آنکھیں اور زرد پڑتا چہرہ اس کی محبت کے سچے ہونے کی گواہی نہ دیں۔

میرؔ کو کیوں نہ

میرؔ کو کیوں نہ مغتنم جانے

اگلے لوگوں میں اک رہا ہے یہ

Explanation: میر اپنے قد کاٹھ اور عظمت کا احساس دلاتے ہیں کہ دنیا کو چاہیے کہ وہ میر کی قدر کرے، کیونکہ وہ پرانے اور عظیم لوگوں کی نشانی ہیں اور ان جیسے باکمال لوگ اب اس دنیا میں باقی نہیں رہے۔

آئے ہو گھر سے

آئے ہو گھر سے اٹھ کر میرے مکاں کے اوپر

کی تم نے مہربانی بے خانماں کے اوپر

Explanation: محبوب کے اچانک غریب خانے پر آنے پر عاشق کی خوشی اور حیرت کا اظہار ہے کہ تم اپنا عالی شان گھر چھوڑ کر مجھ جیسے غریب اور بے گھر انسان کی جھونپڑی میں آ گئے، یہ تمہارا بہت بڑا احسان ہے۔

اب مجھ ضعیف و

اب مجھ ضعیف و زار کو مت کچھ کہا کرو

جاتی نہیں ہے مجھ سے کسو کی اٹھائی بات

Explanation: بڑھاپے اور مسلسل دکھوں نے میر کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ اب وہ دنیا سے التجا کرتے ہیں کہ مجھ پر تنقید یا طعنے مت کسو، کیونکہ اب مجھ میں لوگوں کی کڑوی باتوں کو برداشت کرنے کی طاقت باقی نہیں رہی۔

صد موسم گل ہم

صد موسم گل ہم کو تہ بال ہی گزرے

مقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا

Explanation: قید میں زندگی گزارنے کا انتہائی کرب ہے کہ سینکڑوں بہاریں آئیں اور گزر گئیں، مگر ہم پنجرے میں اپنے پروں کے اندر منہ چھپائے پڑے رہے، ہماری مجبوری کی انتہا یہ تھی کہ ہم اڑنے کی حسرت تک نہ کر سکے۔

ہم نے جانا تھا

ہم نے جانا تھا لکھے گا تو کوئی حرف اے میرؔ

پر ترا نامہ تو اک شوق کا دفتر نکلا

Explanation: شاعر کو توقع تھی کہ وہ محبوب کو خط میں صرف چند تعارفی اور ضروری الفاظ لکھے گا، لیکن جب اس نے لکھنا شروع کیا تو دل کے جذبات اس قدر ابل پڑے کہ وہ خط محبت کی ایک پوری کتاب بن گیا۔

کچھ نہ دیکھا پھر

کچھ نہ دیکھا پھر بجز یک شعلۂ پر پیچ و تاب

شمع تک تو ہم نے دیکھا تھا کہ پروانہ گیا

Explanation: عشق میں فنا ہو جانے کی خوبصورت تشبیہ ہے کہ ہم نے پروانے کو شمع کی طرف جاتے تو دیکھا تھا، مگر اس کے بعد وہاں پروانے کا کوئی نام و نشان نہ بچا بلکہ وہ خود جل کر شمع کا ہی ایک شعلہ بن گیا۔

رات تو ساری گئی

رات تو ساری گئی سنتے پریشاں گوئی

میرؔ جی کوئی گھڑی تم بھی تو آرام کرو

Explanation: دوستوں کی طرف سے میر کو ہمدردانہ تنبیہ ہے کہ تم نے ساری رات روتے، آہیں بھرتے اور اپنے دکھوں کی داستان سناتے گزار دی ہے، خدارا اب خود پر رحم کرو اور تھوڑی دیر کے لیے سکون سے سو جاؤ۔

دل سے شوق رخ

دل سے شوق رخ نکو نہ گیا

جھانکنا تاکنا کبھو نہ گیا

Explanation: بڑھاپے یا کمزوری کے باوجود انسانی فطرت کا بیان ہے کہ حسین چہروں کو دیکھنے کی خواہش دل سے کبھی نہیں جاتی، انسان کی عمر چاہے جو بھی ہو، چھپ کر خوبصورتی کو تکنے کی اس کی عادت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔

آہ سحر نے سوزش

آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا

اس باد نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا

Explanation: صبح کی ٹھنڈی ہوا جس سے دنیا کو زندگی اور سکون ملتا ہے، عاشق کے لیے وہی ہوا موت کا پیغام لے کر آئی، اس صبح کی آہ نے عاشق کے جلتے ہوئے دل کو ایک بجھتے ہوئے چراغ کی طرح مکمل خاموش کر دیا۔

کیا آج کل سے

کیا آج کل سے اس کی یہ بے توجہی ہے

منہ ان نے اس طرف سے پھیرا ہے میرؔ کب کا

Explanation: محبوب کی بے رخی کوئی نئی بات نہیں، شاعر خود کو تسلی دیتا ہے کہ تم اس کی لاپروائی پر آج کیوں حیران ہو رہے ہو، اس ظالم نے تو مدتوں پہلے ہی ہماری طرف سے مستقل طور پر اپنا رخ موڑ لیا تھا۔

سبز ہوتی ہی نہیں

سبز ہوتی ہی نہیں یہ سرزمیں

تخم خواہش دل میں تو بوتا ہے کیا

Explanation: دل کی زمین کو ایک بنجر اور ویران کھیت سے تشبیہ دی گئی ہے جہاں کوئی بھی امید یا خواہش کا بیج بویا جائے تو وہ کبھی نہیں پھلتا، اس لیے شاعر خود کو فضول امیدیں وابستہ کرنے سے روکتا ہے۔

ہیں عناصر کی یہ

ہیں عناصر کی یہ صورت بازیاں

شعبدے کیا کیا ہیں ان چاروں کے بیچ

Explanation: یہ کائنات کی تخلیق اور مادی دنیا کا فلسفہ ہے کہ یہ پوری رنگین دنیا محض چار بنیادی عناصر (آگ، پانی، مٹی، ہوا) کا کھیل اور جادوگری ہے جس نے انسان کو اپنے دھوکے میں الجھایا ہوا ہے۔

قبائے لالہ و گل

قبائے لالہ و گل میں جھلک رہی تھی خزاں

بھری بہار میں رویا کیے بہار کو ہم

Explanation: شاعر کی نظر اتنی دور اندیش ہے کہ جب اس نے بہار کے موسم میں کھلے ہوئے پھولوں کا جوبن دیکھا، تو اس عروج میں ہی اسے خزاں کی بربادی نظر آ گئی اور وہ عین بہار کے موسم میں اس کے مٹ جانے کے دکھ پر روتا رہا

داغ آنکھوں سے کھل

داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سب

ہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا

Explanation: یہ شاعرانہ مبالغہ اور خوبصورت منظر کشی ہے جس میں انسان کے دکھوں اور آنسوؤں کو نرگس کے پھولوں سے تشبیہ دی گئی ہے، جیسے آنکھوں سے آنسوؤں کے بجائے نرگس کے داغ دار پھول گر کر گلدستہ بن رہے ہوں۔

لکھتے رقعہ لکھے گئے

لکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر

شوق نے بات کیا بڑھائی ہے

Explanation: عاشق محبوب کو صرف ایک چھوٹا سا پرچی یا خط لکھنے بیٹھا تھا، لیکن محبت کی شدت اور شکووں کا طوفان کچھ ایسا اٹھا کہ وہ لکھتے لکھتے پورے کے پورے دفتر (کتابیں) سیاہ کر گیا۔

عجز و نیاز اپنا

عجز و نیاز اپنا اپنی طرف ہے سارا

اس مشت خاک کو ہم مسجود جانتے ہیں

Explanation: یہ عشق کی انتہا ہے کہ ہم اپنی تمام تر عاجزی اور سجدے صرف اس ایک انسان کے لیے وقف کر چکے ہیں، دنیا کے لیے وہ محض مٹی کا ایک پتلا ہوگا مگر ہماری نظروں میں وہ سجدے کے لائق خدا کا روپ ہے۔