Skip to content

Mir Taqi Mir

اس پہ تکیہ کیا

اس پہ تکیہ کیا تو تھا لیکن

رات دن ہم تھے اور بستر تھا

Explanation: محبوب پر اندھا بھروسہ کرنے کا انجام یہ ہوا کہ اس نے شاعر کو اس حد تک تنہا اور بیمار کر دیا کہ اب اس کی زندگی صرف دن رات بسترِ مرگ پر دکھ جھیلتے ہوئے گزر رہی ہے۔

ہر قدم پر تھی

ہر قدم پر تھی اس کی منزل لیک

سر سے سودائے جستجو نہ گیا

Explanation: یہ انسان کے مسلسل آگے بڑھنے کے جنون کا بیان ہے کہ اگرچہ उसे سفر کے ہر قدم پر ایک نئی اور بڑی منزل مل گئی، لیکن اس کے دماغ میں مزید تلاش اور کچھ نیا پانے کی دیوانگی کبھی ختم نہیں ہوئی۔

رفتگاں میں جہاں کے

رفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیں

ساتھ اس کارواں کے ہم بھی ہیں

Explanation: موت کی حقیقت اور دنیا کی بے ثباتی کا اظہار ہے کہ دنیا سے رخصت ہونے والوں کے قافلے میں ہم نے بھی ایک دن شامل ہو جانا ہے، اور ہم بھی اسی موت کے سفر کے مسافر ہیں۔

کعبے میں جاں بہ

کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوریٔ بتاں سے

آئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے ہاں سے

Explanation: یہ ایک انتہائی باغیانہ اور طنزیہ شعر ہے کہ ہم کعبے میں خدا کے پاس گئے تو تھے، لیکن وہاں بھی محبوب (بت) کی یاد ہمیں موت کے قریب لے گئی، اس لیے ہم خدا کا گھر چھوڑ کر دوبارہ محبوب کی گلی میں واپس آ گئے ہیں۔

اس دشت میں اے

اس دشت میں اے سیل سنبھل ہی کے قدم رکھ

ہر سمت کو یاں دفن مری تشنہ لبی ہے

Explanation: یہ صحرا عاشق کی پیاس اور حسرتوں کی شدت سے اتنا بھرا ہوا ہے کہ وہ طوفان (سیلاب) کو بھی خبردار کرتا ہے کہ احتیاط سے گزرنا، ورنہ میری قبر کی پیاس تیرے سارے پانی کو لمحہ بھر میں پی جائے گی۔

سدا ہم تو کھوئے

سدا ہم تو کھوئے گئے سے رہے

کبھو آپ میں تم نے پایا ہمیں

Explanation: عاشق محبوب سے گلہ کرتا ہے کہ ہم تو تمہاری محبت میں اس قدر کھو گئے کہ ہم نے اپنا ہوش و حواس اور اپنی ذات تک گنوا دی، کیا تم نے کبھی اپنے دل کے اندر ہمیں پانے کی کوشش کی۔

معرکہ گرم تو ہو

معرکہ گرم تو ہو لینے دو خوں ریزی کا

پہلے شمشیر کے نیچے ہمیں جا بیٹھیں گے

Explanation: عاشق کی بہادری اور قربانی کا بے باک اعلان ہے کہ محبت کے میدان میں جان دینے کا وقت آنے دو، تم دیکھو گے کہ سب سے پہلے ہم خود خوشی خوشی اپنی گردن کٹوانے کے لیے قاتل کی تلوار کے نیچے جا بیٹھیں گے۔

کہنا تھا کسو سے

کہنا تھا کسو سے کچھ تکتا تھا کسو کا منہ

کل میر کھڑا تھا یاں سچ ہے کہ دوانہ تھا

Explanation: میر کی شدید دیوانگی اور پاگل پن کا منظر ہے جس میں وہ بازار میں ہوش کھو بیٹھے تھے، وہ کہنا کچھ چاہتے تھے، دیکھتے کسی اور کو تھے، اور ان کی اس حالت کو دیکھ کر ہر کوئی جان گیا تھا کہ یہ واقعی پاگل ہو چکے ہیں۔

کیا تھا ریختہ پردہ

کیا تھا ریختہ پردہ سخن کا

سو ٹھہرا ہے یہی اب فن ہمارا

Explanation: میر کہتے ہیں کہ ابتدا میں ہم نے ریختہ (اردو شاعری) کا استعمال محض اپنے دلی جذبات اور دکھوں کو چھپانے کے ایک پردے کے طور پر کیا تھا، لیکن بعد میں یہی شاعری ہماری پہچان اور دنیا کا سب سے بڑا فن بن گئی۔

فرصت میں اک نفس

فرصت میں اک نفس کے کیا درد دل سنوگے

آئے تو تم ولیکن وقت اخیر آئے

Explanation: محبوب کو عاشق کی موت کے وقت رحم آیا، شاعر شکوہ کرتا ہے کہ تم آ تو گئے ہو مگر اس وقت آئے ہو جب میری آخری سانس چل رہی ہے، اتنے کم وقت میں تم میری زندگی بھر کی داستانِ غم کیسے سن پاؤ گے۔

دعویٰ کیا تھا گل

دعویٰ کیا تھا گل نے ترے رخ سے باغ میں

سیلی لگی صبا کی تو منہ لال ہو گیا

Explanation: یہ ایک شاندار شاعرانہ مبالغہ ہے کہ جب باغ کے پھول نے محبوب کے چہرے سے مقابلہ کرنے کی جرأت کی، تو ہوا کے طمانچے (سیلی) نے اس کا منہ غصے اور شرم سے سرخ (گلاب کا رنگ) کر دیا۔

دل کہ یک قطرہ

دل کہ یک قطرہ خوں نہیں ہے بیش

ایک عالم کے سر بلا لایا

Explanation: دل کی ظاہری کمزوری اور باطنی طاقت کا بیان ہے کہ بظاہر یہ دل محض خون کا ایک چھوٹا سا قطرہ ہے، لیکن محبت کے معاملے میں اس کی طاقت ایسی ہے کہ اس نے پوری دنیا کے سر پر مصیبت اور پاگل پن سوار کر رکھا ہے۔

گر ٹھہرے ملک آگے

گر ٹھہرے ملک آگے انھوں کے تو عجب ہے

پھرتے ہیں پڑے دلی کے لونڈے جو پری سے

Explanation: میر کے دور کی دہلی اور وہاں کے لڑکوں کے حسن کی تعریف ہے، شاعر کہتا ہے کہ دہلی کے یہ نوجوان اس قدر خوبصورت ہیں کہ ان کے حسن کے سامنے آسمان کے فرشتوں (ملک) کا حسن بھی ماند پڑ جاتا ہے۔

چلتے ہو تو چمن

چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے

پات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم باد و باراں ہے

Explanation: محبوب کو بہار کے موسم میں باغ کی سیر کی دعوت دی جا رہی ہے کہ آؤ چل کر فطرت کا حسن دیکھیں جہاں ہریالی ہے، پھول کھلے ہیں اور ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا اور بارش کا خوبصورت سماں ہے۔

وصل و ہجراں دو

وصل و ہجراں دو جو منزل ہیں یہ راہ عشق میں

دل غریب ان میں خدا جانے کہاں مارا گیا

Explanation: عشق کے راستے میں دو ہی بڑی منزلیں (ملاقات اور جدائی) ہوتی ہیں، شاعر کہتا ہے کہ نجانے میرا معصوم دل وصال کی خوشی کے نشے میں مارا گیا یا ہجر کے دکھوں نے اس کی جان لے لی۔

جب ہم کلام ہم

جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کر

کس رنگ سے کرے ہے باتیں چبا چبا کر

Explanation: لکھنوی تہذیب اور محبوب کی دلفریب اداؤں کی تصویر کشی ہے کہ جب محبوب پان کھا کر بات کرتا ہے تو اس کے ہونٹوں کی لالی اور چبا کر رک رک کر بولنے کا انداز عاشق کے دل پر چھریاں چلاتا ہے۔

پوشیدہ راز عشق چلا

پوشیدہ راز عشق چلا جائے تھا سو آج

بے طاقتی نے دل کی وہ پردہ اٹھا دیا

Explanation: عاشق نے ایک لمبے عرصے تک اپنی محبت کے راز کو دنیا سے چھپا کر رکھا، مگر آج اس کے دل کی کمزوری اور بے قابو دھڑکنوں نے اس راز کو سرعام دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

ان نے تو تیغ

ان نے تو تیغ کھینچی تھی پر جی چلا کے میرؔ

ہم نے بھی ایک دم میں تماشا دکھا دیا

Explanation: محبوب نے تو ڈرانے کے لیے تلوار نکالی تھی، مگر میر نے اپنی جان پر کھیل کر فوراً اپنی گردن کٹوا دی اور ایک ہی لمحے میں اپنا سر قربان کر کے محبوب اور دنیا کو سچے عشق کا تماشا دکھا دیا۔

پاؤں کے نیچے کی

پاؤں کے نیچے کی مٹی بھی نہ ہوگی ہم سی

کیا کہیں عمر کو اس طرح بسر ہم نے کیا

Explanation: اپنی تباہی اور ذلت کا انتہائی افسوسناک بیان ہے کہ عشق نے ہمیں اتنا برباد اور بے وقعت کر دیا ہے کہ اب پیروں تلے روندی جانے والی خاک کی قیمت بھی ہم سے کہیں زیادہ ہوگی۔

مت رنجہ کر کسی

مت رنجہ کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاد

دل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا

Explanation: یہ انسانیت کا سب سے بڑا صوفیانہ پیغام ہے کہ کسی کا دل دکھانا سب سے بڑا گناہ ہے، کیونکہ اگر تم نے کسی کا دل توڑ کر اس کی جگہ کعبہ بھی تعمیر کر لیا، تو تمہارا وہ نیک کام خدا کی نظر میں بے کار ہے۔