Explanation: عشق کے راستے کی خوفناک مصیبتوں کا ایک کھلا اعتراف ہے، شاعر سوچتا ہے کہ اس محبت کے راستے میں کتنے ظلم، زیادتیاں، بے وفائیاں اور کیسی کیسی انجانی بلائیں ہیں جن کا عاشق کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آورگان عشق کا پوچھا
آورگان عشق کا پوچھا جو میں نشاں
مشت غبار لے کے صبا نے اڑا دیا
Explanation: عاشقوں کے دردناک اور گمنام انجام کی تصویر کشی ہے کہ جب میں نے ہوا سے پرانے عاشقوں کا پتہ پوچھا، تو اس نے مٹھی بھر مٹی اڑا کر مجھے بتا دیا کہ عشق کے مارے لوگ آخر میں خاک کے علاوہ کچھ نہیں بچتے۔
عشق سے جا نہیں
عشق سے جا نہیں کوئی خالی
دل سے لے عرش تک بھرا ہے عشق
Explanation: کائنات کے ہر وجود اور کونے میں عشق کے موجود ہونے کا اعتراف ہے، شاعر کہتا ہے کہ ادنیٰ انسان کے دل سے لے کر خدا کے عظیم عرش تک، کوئی بھی جگہ ایسی نہیں جو عشق کے اثر سے خالی ہو۔
حسن تھا تیرا بہت
حسن تھا تیرا بہت عالم فریب
خط کے آنے پر بھی اک عالم رہا
Explanation: محبوب کے حسن کی تعریف ہے کہ اس کے چہرے پر سبزہ (نوجوانی کی داڑھی/خط) آنے کے باوجود اس کے حسن میں کوئی کمی نہیں آئی، بلکہ اس کا جادو اور کشش آج بھی پوری دنیا کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔
یہ فن عشق ہے
یہ فن عشق ہے آوے اسے طینت میں جس کی ہو
تو زاہد پیر نابالغ ہے بے تہہ تجھ کو کیا آوے
Explanation: عشق کوئی سیکھنے والی چیز نہیں بلکہ یہ پیدائشی فطرت کا حصہ ہے، میر ظاہری عبادت گزار (زاہد) پر طنز کرتے ہیں کہ تو لاکھ پرہیزگار سہی مگر عشق کے معاملے میں تو ایک نابالغ بچہ ہے، تجھے عشق کی گہرائی کیا سمجھ آئے گی۔
عشق کا گھر ہے
عشق کا گھر ہے میرؔ سے آباد
ایسے پھر خانماں خراب کہاں
Explanation: میر اپنی تباہی پر فخر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عشق کی دنیا کی ساری رونق دراصل میرے جیسے دیوانوں کی وجہ سے ہے، ورنہ دنیا میں کون ہے جو عشق کی خاطر اپنا گھر بار اور زندگی تباہ کرنے کا حوصلہ رکھے۔
کیفیتیں عطار کے لونڈے
کیفیتیں عطار کے لونڈے میں بہت تھیں
اس نسخے کی کوئی نہ رہی حیف دوا یاد
Explanation: یہ میر کے مشہور عشق کا ذکر ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ اس حکیم کے لڑکے کے حسن اور باتوں میں اتنی دلکشی اور جادو تھا کہ میں اس کے سحر میں کھو کر اپنی اصل دوائی کا نسخہ ہی بھول گیا۔
باہم ہوا کریں ہیں
باہم ہوا کریں ہیں دن رات نیچے اوپر
یہ نرم شانے لونڈے ہیں مخمل دو خوابا
Explanation: یہ شعر میر کے دور کے لکھنوی معاشرے کی حقیقت اور لڑکوں سے عشق (امرد پرستی) کی جھلک پیش کرتا ہے، جس میں نوجوان لڑکوں کے نرم کندھوں کو دوہری مخمل کی طرح نرم اور آرام دہ قرار دیا گیا ہے۔
بال و پر بھی
بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ
اب توقع نہیں رہائی کی
Explanation: قید میں بند پرندے کی مایوسی کا عالم ہے کہ جب تک میرے پر سلامت تھے، آزادی کی امید تھی، مگر اب جب بہار بھی گزر گئی اور اڑنے کی طاقت (پر) بھی چھن گئی تو اب قید سے نکلنے کی کوئی آس باقی نہیں رہی۔
اس کے ایفائے عہد
اس کے ایفائے عہد تک نہ جیے
عمر نے ہم سے بے وفائی کی
Explanation: محبوب نے ملنے یا وفا کرنے کا جو طویل وعدہ کیا تھا، اس کے پورا ہونے سے پہلے ہی عاشق کی زندگی ختم ہو گئی، وہ شکوہ کرتا ہے کہ محبوب تو دور کی بات، ہماری تو اپنی عمر نے بھی ہمارے ساتھ بے وفائی کی۔
ہم آپ ہی کو
ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں
اپنے سوائے کس کو موجود جانتے ہیں
Explanation: یہ 'وحدت الوجود' اور انتہائی خود شناسی کا شعر ہے، جس میں شاعر بتاتا ہے کہ انسان دراصل خدا کا ہی روپ ہے، اس لیے ہم اپنی ذات کو ہی سب سے بڑی حقیقت اور تلاش کا مرکز مانتے ہیں۔
مہر و مہ گل
مہر و مہ گل پھول سب تھے پر ہمیں
چہرئی چہرہ ہمیں بھاتا رہا
Explanation: دنیا میں سورج، چاند اور پھولوں جیسی ہزاروں خوبصورت اور دلکش چیزیں موجود تھیں، لیکن عاشق کی دیوانگی کا یہ عالم تھا کہ اسے ان سب میں سے صرف اور صرف اپنے محبوب کا چہرہ ہی پسند آیا۔
کیا جانوں چشم تر
کیا جانوں چشم تر سے ادھر دل کو کیا ہوا
کس کو خبر ہے میرؔ سمندر کے پار کی
Explanation: عاشق کے آنسو اس قدر بہہ رہے ہیں کہ اس کی آنکھوں کے سامنے آنسوؤں کا ایک سمندر کھڑا ہو گیا ہے، اور وہ خود نہیں جانتا کہ اس سمندر کے اس پار (اس کے سینے میں) اس کے دل کا کیا حال ہو رہا ہے۔
عاشقوں کی خستگی بد
عاشقوں کی خستگی بد حالی کی پروا نہیں
اے سراپا ناز تو نے بے نیازی خوب کی
Explanation: محبوب کے ظالمانہ اور مغرور رویے کا ذکر ہے کہ عاشق اپنی محبت میں برباد اور بدحال ہو چکے ہیں، مگر سراپا غرور محبوب نے ان کی اس تباہی کی ذرا بھی پرواہ نہ کر کے اپنی سنگدلی کی انتہا کر دی ہے۔
جو اس شور سے
جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا
تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا
Explanation: میر کے دل کا درد اور رونے کی آواز اتنی بلند اور اذیت ناک ہے کہ وہ خود سے کہتے ہیں کہ اگر تم رات بھر اسی طرح روتے اور فریاد کرتے رہے، تو تمہاری وجہ سے پڑوسی بھی سکون کی نیند نہیں سو پائیں گے۔
منہ تکا ہی کرے
منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کا
حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا
Explanation: آئینے کی مجبوری اور محبوب کے حسن کی حیرانی کا خوبصورت بیان ہے کہ آئینہ اس قدر بے شرم ہو گیا ہے کہ جو بھی اس کے سامنے آتا ہے وہ حیرانی سے اسے گھورنے لگتا ہے، نجانے یہ کس حیرت زدہ شخص کا آئینہ ہے۔
وے دن گئے کہ
وے دن گئے کہ آنکھیں دریا سی بہتیاں تھیں
سوکھا پڑا ہے اب تو مدت سے یہ دو آبا
Explanation: عمر کے ساتھ آنسو خشک ہو جانے کا دکھ ہے کہ وہ جوانی کا دور گزر گیا جب کسی دکھ پر آنکھوں سے دریا بہتے تھے، اب تو اتنے دکھ سہہ لیے ہیں کہ آنکھوں کا پانی خشک ہو چکا ہے اور رونے کی طاقت بھی نہیں۔
خراب رہتے تھے مسجد
خراب رہتے تھے مسجد کے آگے مے خانے
نگاہ مست نے ساقی کی انتقام لیا
Explanation: پہلے مساجد کی رونق کے سامنے میخانے ویران لگتے تھے، لیکن جب سے ساقی (عشق) کی نشیلی نگاہوں کا جادو چلا ہے، لوگوں نے ظاہری عبادت چھوڑ کر عشق کے میخانے کا راستہ اپنا لیا ہے اور ساقی نے اپنا بدلہ لے لیا ہے۔
کون لیتا تھا نام
کون لیتا تھا نام مجنوں کا
جب کہ عہد جنوں ہمارا تھا
Explanation: میر اپنی دیوانگی اور عشق کے عروج کا فخر بیان کرتے ہیں کہ جب ہمارے عشق کا دور تھا تو ہمارا پاگل پن اتنا مشہور اور شدید تھا کہ اس وقت دنیا میں کوئی مجنوں کا نام تک نہیں لیتا تھا۔
کون کہتا ہے نہ
کون کہتا ہے نہ غیروں پہ تم امداد کرو
ہم فراموشیوں کو بھی کبھو یاد کرو
Explanation: عاشق نہایت عاجزی سے محبوب سے کہتا ہے کہ تم شوق سے غیروں اور رقیبوں پر مہربانیاں کرو ہم تمہیں نہیں روکیں گے، لیکن خدارا کبھی کبھار ہم بھولے بسرے عاشقوں کو بھی یاد کر لیا کرو۔