Explanation: فراہاد کے پہاڑ کاٹنے کے واقعے کی طرف اشارہ ہے، شاعر کہتا ہے کہ فرہاد کی کیا مجال تھی کہ وہ اکیلا اتنا بڑا پہاڑ کاٹتا، یہ دراصل فرہاد کا کمال نہیں تھا بلکہ یہ اس کے اندر موجود عشق کی طاقت تھی جس نے یہ معجزہ کر دکھایا۔
خدا کو کام تو
خدا کو کام تو سونپے ہیں میں نے سب لیکن
رہے ہے خوف مجھے واں کی بے نیازی کا
Explanation: انسان خدا پر توکل تو کر لیتا ہے، لیکن شاعر اپنی بے قراری ظاہر کرتا ہے کہ میں نے اپنے سارے مسائل اللہ پر چھوڑ دیے ہیں، مگر خدا بے نیاز ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ کہیں میری فریاد کو نظر انداز نہ کر دے۔
میں جو بولا کہا
میں جو بولا کہا کہ یہ آواز
اسی خانہ خراب کی سی ہے
Explanation: عاشق چھپ کر محبوب کی محفل میں پہنچ گیا تھا، لیکن جیسے ہی اس کے منہ سے کچھ نکلا تو محبوب فوراً اس کی آواز پہچان گیا اور غصے سے بولا کہ یہ درد بھری آواز تو اسی پاگل اور دربدر عاشق کی معلوم ہوتی ہے۔
شفق سے ہیں در
شفق سے ہیں در و دیوار زرد شام و سحر
ہوا ہے لکھنؤ اس رہ گزر میں پیلی بھیت
Explanation: عاشق کے دکھ کی شدت کا ماحول پر اثر ہے کہ شاعر کے درد اور زرد چہرے کی وجہ سے پورے شہر کی دیواریں بھی شام کے رنگ کی طرح پیلی ہو گئی ہیں، اور لکھنؤ کا رنگ اڑ گیا ہے۔
لگا نہ دل کو
لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نے
جو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا
Explanation: شاعر خود کو ایک عبرت کی مثال بناتے ہوئے دوسروں کو نصیحت کر رہا ہے کہ ہرگز کسی سے محبت مت کرنا، کیا تم نے دیکھا نہیں کہ میر جیسے عظیم انسان کو اس عشق نے کس طرح تباہ اور خوار کر کے رکھ دیا ہے۔
کچھ ہو رہے گا
کچھ ہو رہے گا عشق و ہوس میں بھی امتیاز
آیا ہے اب مزاج ترا امتحان پر
Explanation: سچے عاشق اور جھوٹے مفاد پرست (ہوس والے) کے درمیان فرق جاننے کا وقت آ گیا ہے، شاعر کہتا ہے کہ اب محبوب نے امتحان لینے کی ٹھان لی ہے، تو اس مشکل وقت میں سچا اور جھوٹا عاشق خود بخود پہچانا جائے گا۔
بہت کچھ کہا ہے
بہت کچھ کہا ہے کرو میرؔ بس
کہ اللہ بس اور باقی ہوس
Explanation: یہ ایک صوفیانہ اور دنیا سے بیزاری کا انجام ہے، میر خود کو نصیحت کرتے ہیں کہ تم نے بہت شاعری اور دنیا داری کی باتیں کر لیں، اب ان سب کو چھوڑ دو کیونکہ حقیقت صرف اللہ کی ذات ہے اور باقی سب کچھ جھوٹی ہوس اور دھوکہ ہے۔
عشق ہے عشق کرنے
عشق ہے عشق کرنے والوں کو
کیسا کیسا بہم کیا ہے عشق
Explanation: عشق کی طاقت اور اس کی کرشمہ سازی کا بیان ہے کہ اس جذبے نے بکھرے ہوئے لوگوں کو کس طرح آپس میں جوڑ دیا ہے اور ناممکن باتوں کو بھی ممکن کر کے دکھا دیا ہے۔
کچھ کرو فکر مجھ
کچھ کرو فکر مجھ دیوانے کی
دھوم ہے پھر بہار آنے کی
Explanation: بہار کے موسم میں عاشقوں کے جنون میں شدت آ جاتی ہے، شاعر لوگوں سے التجا کرتا ہے کہ بہار کی خبریں آ رہی ہیں، لہٰذا مجھ پاگل کا کچھ انتظام کرو، ورنہ میں دیوانگی میں کپڑے پھاڑ کر جنگلوں کی طرف بھاگ نکلوں گا۔
آدم خاکی سے عالم
آدم خاکی سے عالم کو جلا ہے ورنہ
آئینہ تھا تو مگر قابل دیدار نہ تھا
Explanation: انسان کی تخلیق کی عظمت کا بیان ہے کہ دنیا کو اصل چمک اور شعور مٹی سے بنے انسان ہی کی بدولت ملا ہے، انسان سے پہلے کائنات ایک صاف آئینے کی طرح تو تھی، مگر اس میں دیکھ کر خود کو پہچاننے والا کوئی شعور موجود نہیں تھا۔
نازک مزاج آپ قیامت
نازک مزاج آپ قیامت ہیں میرؔ جی
جوں شیشه میرے منہ نہ لگو میں نشے میں ہوں
Explanation: یہ میر کی نازک طبعی اور غرور کا شاندار اظہار ہے، جس میں نشے کی حالت میں وہ کسی کو جھڑکتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ میں شیشے کی طرح نازک ہوں، تم میرے قریب مت آؤ ورنہ کوئی قیامت برپا ہو جائے گی۔
میرؔ جی زرد ہوتے
میرؔ جی زرد ہوتے جاتے ہو
کیا کہیں تم نے بھی کیا ہے عشق
Explanation: لوگ میر کا زرد اور کمزور چہرہ دیکھ کر ان سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ تمہاری یہ حالت اور پیلاہٹ بتا رہی ہے کہ تم بھی شاید کسی کے عشق میں گرفتار ہو کر بیمار پڑ گئے ہو۔
عشق ہے طرز و
عشق ہے طرز و طور عشق کے تئیں
کہیں بندہ کہیں خدا ہے عشق
Explanation: عشق کی لا محدود شکلوں اور طاقت کا ذکر ہے کہ عشق کے اپنے ہی قانون اور انداز ہیں، یہ کبھی ایک عام انسان کو غلام بنا دیتا ہے اور کبھی عروج پر پہنچا کر اسے خدا جیسی طاقت اور بے نیازی عطا کر دیتا ہے۔
چمن میں گل نے
چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا
جمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا
Explanation: شاعرانہ مبالغہ اور محبوب کی خوبصورتی کا بیان ہے کہ باغ میں جب گلاب کے پھول نے اپنی خوبصورتی پر غرور کیا، تو محبوب کے بے مثال حسن نے اس کی یہ اوقات یاد دلا کر شرمندگی سے اس کا منہ سرخ کر دیا۔
کیا اس آتش باز
کیا اس آتش باز کے لونڈے کا اتنا شوق میر
بہہ چلی ہے دیکھ کر اس کو تمہاری رال کچھ
Explanation: یہ میر کے دور کی لکھنوی تہذیب اور عشقِ امرد (لڑکوں سے محبت) کا تذکرہ ہے، جس میں دوست میر پر طنز کر رہے ہیں کہ تم اس پٹاخے بنانے والے لڑکے کے عشق میں اس قدر دیوانے ہو گئے ہو کہ اسے دیکھ کر رال ٹپکانے لگتے ہو۔
ہم طور عشق سے
ہم طور عشق سے تو واقف نہیں ہیں لیکن
سینے میں جیسے کوئی دل کو ملا کرے ہے
Explanation: محبت کے آغاز کی معصومانہ اور بے چین کیفیت ہے، شاعر کہتا ہے کہ میں عشق کی الجھنوں کو تو نہیں جانتا، مگر مجھے اپنے سینے کے اندر ایک عجیب سی کسک محسوس ہوتی ہے جیسے کوئی میرے دل کو مسل رہا ہو۔
لیتے ہی نام اس
لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اٹھے
ہے خیر میرؔ صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا
Explanation: محبوب کی یاد کا نفسیاتی اثر ہے کہ میر نیند کی حالت میں بھی اس قدر حساس ہیں کہ جیسے ہی کسی نے ان کے محبوب کا نام لیا، وہ ڈر کر جاگ گئے، اور لوگ پوچھنے لگے کہ کیا تم نے کوئی برا خواب دیکھا ہے۔
مرثیے دل کے کئی
مرثیے دل کے کئی کہہ کے دئیے لوگوں کو
شہر دلی میں ہے سب پاس نشانی اس کی
Explanation: میر بتاتے ہیں کہ میرے اشعار محض شاعری نہیں بلکہ میرے ٹوٹے ہوئے دل اور دہلی کی تباہی کے سچے ماتم (مرثیے) ہیں، جو میں نے لکھ کر پوری دلی کے لوگوں میں اپنی نشانی کے طور پر بانٹ دیے ہیں۔
کیسا چمن کہ ہم
کیسا چمن کہ ہم سے اسیروں کو منع ہے
چاک قفس سے باغ کی دیوار دیکھنا
Explanation: انتہائی درجے کی قید اور گھٹن کا دکھ ہے، شاعر کہتا ہے کہ یہ کیسا ظالمانہ ماحول اور پنجرہ ہے جہاں ہمیں پرندوں کی طرح اڑنے کی تو دور کی بات، پنجرے کے سوراخوں سے باہر کے باغ کو دیکھنے پر بھی پابندی لگی ہوئی ہے۔
زیر شمشیر ستم میرؔ
زیر شمشیر ستم میرؔ تڑپنا کیسا
سر بھی تسلیم محبت میں ہلایا نہ گیا
Explanation: عشق میں محبوب کی رضا کے سامنے مکمل سرِ تسلیم خم کرنے کا بیان ہے، کہ جب محبوب قتل کرنے کے لیے تلوار لے کر کھڑا تھا، تو عاشق نے خوشی اور تابعداری میں اتنا بھی نہیں تڑپا کہ ذرا سا سر بھی ہلا سکے۔