Skip to content

Mir Taqi Mir

کام اس کے لب

کام اس کے لب سے ہے مجھے بنت العنب سے کیا

ہے آب زندگی بھی تو لے جائے مردہ شو

Explanation: شاعر کو شراب (بنت العنب) اور آبِ حیات کی کوئی پرواہ نہیں، کیونکہ اس کے نزدیک محبوب کے ہونٹوں کا رس اور ان سے ملنے والی تسکین ہی دنیا کا اصل امرت ہے جو مردے میں بھی جان ڈال سکتی ہے۔

تن کے معمورے میں

تن کے معمورے میں یہی دل و چشم

گھر تھے دو سو خراب ہیں دونوں

Explanation: انسانی جسم کے اس وسیع شہر میں صرف دو ہی اہم چیزیں یا گھر تھے (دل اور آنکھیں)، لیکن بدقسمتی سے عشق کی آگ نے دل کو جلا کر راکھ کر دیا اور رونے سے آنکھوں کی بینائی چلی گئی، یوں دونوں گھر برباد ہو گئے۔

عالم عالم عشق و

عالم عالم عشق و جنوں ہے دنیا دنیا تہمت ہے

دریا دریا روتا ہوں میں صحرا صحرا وحشت ہے

Explanation: عشق میں ملنے والی اذیت کی لا محدودیت کا بیان ہے کہ دنیا کی ہر طرف سے مجھ پر تہمتیں لگ رہی ہیں، اور میرے رونے اور پاگل پن کا عالم یہ ہے کہ میرے آنسو سمندروں کی طرح اور وحشت ریگستانوں جیسی ہے۔

آئینے کو بھی دیکھو

آئینے کو بھی دیکھو پر ٹک ادھر بھی دیکھو

حیران چشم عاشق دمکے ہے جیسے ہیرا

Explanation: محبوب کو اپنی خوبصورتی کے سحر سے آگاہ کیا گیا ہے کہ آئینے میں خود کو دیکھنے کے بعد ذرا اپنے عاشق کی طرف بھی دیکھو جس کی حیرت زدہ آنکھیں تمہارے حسن کی چمک سے ہیرے کی طرح روشن ہو گئی ہیں۔

تھا سب کو دعویٰ

تھا سب کو دعویٰ عشق کا لیکن نہ ٹھہرا کوئی بھی

دانستہ اپنی جان سے دل کو اٹھایا ایک میں

Explanation: دنیا میں محبت کے جھوٹے دعوے دار تو بہت تھے لیکن امتحان کے وقت سب بھاگ گئے، وہ صرف میر ہی تھا جس نے ثابت قدمی سے اور جان بوجھ کر اپنی جان کو عشق کی آگ میں جلا کر راکھ کر دیا۔

زمانے نے مجھ جرعہ

زمانے نے مجھ جرعہ کش کو ندان

کیا خاک و خشت سر خم کیا

Explanation: شاعر اپنی بربادی اور ذلت پر نوحہ کناں ہے کہ شرابِ عشق پینے کی وجہ سے ظالم دنیا نے میرے وجود کو مٹی اور پتھروں سے ملا کر کچل دیا اور میرا غرور خاک میں ملا دیا۔

ہاتھ چڑھ جائیو اے

ہاتھ چڑھ جائیو اے شیخ کسو کے نہ کبھو

لونڈے سب تیرے خریدار ہیں میخانے کے

Explanation: یہاں مذہبی پیشواؤں (شیخ) کی خفیہ خرافات اور لکھنوی تہذیب کی طرف اشارہ ہے، شاعر شیخ کو خبردار کرتا ہے کہ میخانے کے نوجوان لڑکوں سے بچ کر رہنا، کہیں وہ تمہاری پارسائی کا بھانڈا نہ پھوڑ دیں۔

ہیں چاروں طرف خیمے

ہیں چاروں طرف خیمے کھڑے گرد باد کے

کیا جانیے جنوں نے ارادہ کدھر کیا

Explanation: یہ دیوانگی کے طوفان کے آغاز کی منظر کشی ہے جہاں ہر طرف گرد و غبار کے خیمے (بھنور) اٹھے ہوئے ہیں، اور کوئی نہیں جانتا کہ عاشق کا جنون اب کس طرف بربادی اور تباہی لانے والا ہے۔

نکتہ دانان رفتہ کی

نکتہ دانان رفتہ کی نہ کہو

بات وہ ہے جو ہووے اب کی بات

Explanation: ماضی کے بزرگوں اور پرانی روایات کی اندھی تقلید سے بیزاری کا اظہار ہے، شاعر کہتا ہے کہ گئے وقتوں کے لوگوں کی باتیں مت دہراؤ، اصل ہنر وہ ہے جو آج کے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بات کرے۔

برنگ بوئے گل اس

برنگ بوئے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتے

کہ ہم راہ صبا ٹک سیر کرتے پھر ہوا ہوتے

Explanation: انسان کی زندگی کی مختصر مہلت پر ایک خوبصورت تمثیل ہے کہ ہم بھی اس دنیا (باغ) میں پھولوں کی خوشبو کی طرح آئے تھے، ہوا کے دوش پر تھوڑی دیر سیر کی اور پھر ہوا میں ہی تحلیل ہو کر فنا ہو گئے۔

اس کی تو دل

اس کی تو دل آزاری بے ہیچ ہی تھی یارو

کچھ تم کو ہماری بھی تقصیر نظر آئی

Explanation: شاعر کے دوست محبوب کی دل آزاری پر اسے برا بھلا کہہ رہے ہیں، مگر شاعر اپنا دفاع کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کا ظلم تو بغیر کسی وجہ کے تھا، کیا تمہیں اس معاملے میں میرا کوئی قصور نظر آیا؟

اس جستجو میں اور

اس جستجو میں اور خرابی تو کیا کہیں

اتنی نہیں ہوئی ہے صبا در بہ در کہ ہم

Explanation: محبوب کو تلاش کرنے کے تھکا دینے والے سفر کا بیان ہے، عاشق کہتا ہے کہ ہماری دربدری اور ذلت اتنی زیادہ ہے کہ خود ہوائیں (صبا) بھی اتنی بھٹکتی اور بے چین نہیں ہوں گی جتنا میں محبوب کی خاطر خوار ہوا ہوں۔

ہم بے خودان محفل

ہم بے خودان محفل تصویر اب گئے

آئندہ ہم سے آپ میں آیا نہ جائے گا

Explanation: زندگی کی محفل سے حتمی الوداع کا ذکر ہے، شاعر کہتا ہے کہ ہم جو اس دنیا میں ایک خاموش تصویر کی طرح دیوانے بیٹھے تھے، اب ہم موت کی وادی میں جا رہے ہیں جہاں سے کبھی واپسی نہیں ہوگی۔

رخسار اس کے ہائے

رخسار اس کے ہائے رے جب دیکھتے ہیں ہم

آتا ہے جی میں آنکھوں کو ان میں گڑویئے

Explanation: محبوب کے گالوں کی ملائمت اور کشش اتنی شدید ہے کہ شاعر کی نظریں اس حسن میں مکمل طور پر دھنس جانا چاہتی ہیں، اور اس کا دل کرتا ہے کہ وہ کبھی بھی اپنی نگاہیں وہاں سے نہ ہٹائے۔

کیا تیر ستم اس

کیا تیر ستم اس کے سینے میں بھی ٹوٹے تھے

جس زخم کو چیروں ہوں پیکان نکلتے ہیں

Explanation: یہ ظلم سہنے کی انتہا ہے کہ شاعر کے جسم پر زخم ہی زخم ہیں اور جب وہ کسی پرانے زخم کو کھول کر دیکھتا ہے، تو اس میں سے بھی مزید تیروں کے ٹکڑے نکلتے ہیں جو محبوب کے مسلسل ظلم کی گواہی دیتے ہیں۔

سیر گلزار مبارک ہو

سیر گلزار مبارک ہو صبا کو ہم تو

ایک پرواز نہ کی تھی کہ گرفتار ہوئے

Explanation: یہ خوش نصیب لوگوں اور ہوا کی آزادی پر رشک ہے جبکہ اپنی بدقسمتی کا رونا ہے کہ ہم نے تو ابھی محبت کی دنیا میں یا جوانی میں ٹھیک سے قدم بھی نہیں رکھا تھا کہ پنجرے (قید) کا شکار ہو گئے۔

مانند شمع مجلس شب

مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا

القصہ میرؔ کو ہم بے اختیار پایا

Explanation: دنیا کی محفل میں میر کی حالت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ جس طرح اندھیری محفل میں ایک شمع تنہا کھڑی روتی (پگھلتی) رہتی ہے، میر بھی اسی طرح دکھ کی شدت میں اپنے آنسوؤں پر بے قابو اور تنہا کھڑے تھے۔

اب جان جسم خاکی

اب جان جسم خاکی سے تنگ آ گئی بہت

کب تک اس ایک ٹوکری مٹی کو ڈھویئے

Explanation: یہ بڑھاپے اور بیماریوں سے بیزاری کا انتہائی تلخ شعر ہے جس میں شاعر اپنی روح سے تنگ آ کر کہتا ہے کہ میرا جسم اب مٹی کا ایک بیکار ڈھیر بن چکا ہے، آخر روح کب تک اس گلے سڑے بوجھ کو اٹھاتی پھرے گی۔

دکانیں حسن کی آگے

دکانیں حسن کی آگے ترے تختہ ہوئی ہوں گی

جو تو بازار میں ہوگا تو یوسف کب بکا ہوگا

Explanation: محبوب کے حسن کی بے مثال تعریف ہے کہ تمہاری خوبصورتی اتنی زیادہ ہے کہ اگر تم مصر کے بازار میں موجود ہوتے تو حسن کے تمام دعویداروں کی دکانیں بند ہو جاتیں اور حضرت یوسفؑ کو بھی کوئی خریدار نہ ملتا۔

اس باغ کے ہر

اس باغ کے ہر گل سے چپک جاتی ہیں آنکھیں

مشکل بنی ہے آن کے صاحب نظروں کو

Explanation: کائنات (یا محبوب کی محفل) کا حسن اتنا بکھرا ہوا اور دلفریب ہے کہ جس چیز پر بھی نظر پڑتی ہے وہیں رک جاتی ہے، اس کشش نے بصیرت رکھنے والوں کے لیے بھی سیدھے راستے پر چلنا محال کر دیا ہے۔