Skip to content

Qateel Shifai

کیا جانے کس ادا

کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام

دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں

Explanation: محبوب کی منافقت یا ظاہری اپنائیت پر شاعر حیران ہے کہ نجانے تم نے بھری محفل میں اتنے پیار سے میرا نام کیسے لے لیا کہ ساری دنیا یہی سمجھ بیٹھی ہے کہ ہم دونوں واقعی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔

جیت لے جائے کوئی

جیت لے جائے کوئی مجھ کو نصیبوں والا

زندگی نے مجھے داؤں پہ لگا رکھا ہے

Explanation: زندگی کی بے بسی اور مسلسل امتحانات سے تنگ آ کر شاعر کہتا ہے کہ میری زندگی تو جوئے (داؤ) پر لگی ہوئی ہے، کاش کوئی خوش قسمت شخص آ کر مجھے اس مسلسل عذاب سے جیت کر آزاد کرائے۔

اچھا یقیں نہیں ہے

اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبا کے دیکھ

اک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہے

Explanation: ظالم حکمران یا رہنما کو للکارتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ تو اپنی طاقت کے غرور میں اس کشتی کو ڈبونے کی کوشش تو کر، تجھے پتا چل جائے گا کہ صرف تو ہی طاقتور نہیں بلکہ تجھ سے بڑا ایک خدا بھی موجود ہے۔

گرمیٔ حسرت ناکام سے

گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں

ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

Explanation: ناکام محبت کے دکھ کی شدت ہے کہ شام ہوتے ہی تنہائی اور ادھوری تمناؤں کی آگ دل میں اس طرح بھڑک اٹھتی ہے جیسے اندھیرا ہوتے ہی چراغ روشن ہو جاتے ہیں، اور ہم جلنا شروع کر دیتے ہیں۔

کچھ کہہ رہی ہیں

کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں

میرا نہیں تو دل کا کہا مان جائیے

Explanation: محبوب کو اپنی محبت کا قائل کرنے کا رومانوی انداز ہے کہ اگر تمہیں میری باتوں پر اعتبار نہیں، تو کم از کم اپنے دل کی اس تیز دھڑکن کو تو سنو جو خاموشی سے میری ہی محبت کا اعتراف کر رہی ہے۔

مجھ سے تو پوچھنے

مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی

یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

Explanation: وہ محبوب جس نے خود بے وفائی کر کے شاعر کو برباد کیا، آج وہی آ کر شاعر سے وفا کا مطلب پوچھ رہا ہے، محبوب کی اس انتہائی سادگی اور منافقت پر شاعر کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔

میں جب قتیلؔ اپنا

میں جب قتیلؔ اپنا سب کچھ لٹا چکا ہوں

اب میرا پیار مجھ سے دانائی چاہتا ہے

Explanation: محبت کی مجبوری کا المیہ ہے کہ جب میں نے عشق میں دیوانہ ہو کر اپنا سب کچھ برباد کر لیا، تو آج میرا محبوب مجھ سے سمجھداری اور دنیا داری کے تقاضے کر رہا ہے، جو اب میرے لیے ناممکن ہے۔

وہ دل ہی کیا

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے

میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے

Explanation: یہ محبوب سے وفاداری اور مستقل محبت کی قسم ہے کہ وہ دل ہی کس کام کا جو ہر پل تمہیں پانے کی التجا نہ کرے، اور اللہ وہ دن کبھی نہ لائے جب میں تمہیں بھول کر زندہ رہ سکوں۔

جس برہمن نے کہا

جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں

Explanation: یہ طنزیہ اور انتہائی غمگین شعر ہے کہ جس نجومی نے مجھے خوشخبری دی تھی کہ یہ سال خوشیاں لائے گا، اس جھوٹے شخص کو میری تباہ حال اور دکھوں سے بھری ہوئی ہاتھ کی لکیروں میں دفن کر دو۔

رہے گا ساتھ ترا

رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر

یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے

Explanation: شاعر محبوب کو یقین دلاتا ہے کہ تیری محبت ہمیشہ میری زندگی کی طرح میرے ساتھ رہے گی، اب اگر میری زندگی (یا عمر) ہی بہت مختصر ہو اور میرا ساتھ چھوڑ جائے تو یہ ایک الگ بات ہے۔

ستم تو یہ ہے

ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا

قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح

Explanation: یہ ایک دلی شکوہ اور بدقسمتی کا اعتراف ہے کہ ہم نے جس محبوب کی دی ہوئی ہر اذیت اور دکھ کو خوشی سمجھ کر گلے لگایا، بدلے میں وہ ظالم پھر بھی ہمارا نہ بن سکا اور ہمیں تنہا چھوڑ گیا۔

مفلس کے بدن کو

مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت

اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

Explanation: یہ مذہبی عقیدوں اور معاشرے کی بے حسی پر زبردست سماجی طنز ہے کہ جو چادریں تم لوگ قبروں اور مزاروں پر عقیدت سے چڑھاتے ہو، وہ دراصل زندہ مگر غریب انسانوں کے ننگے بدن چھپانے کے زیادہ کام آ سکتی ہیں۔

جو بھی آتا ہے

جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج

بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں

Explanation: شاعر کی محبت اور بیماری کی حالت دیکھ کر ہر دوسرا شخص اسے ایک نیا مشورہ یا علاج بتا رہا ہے، شاعر کو ڈر ہے کہ اتنے سارے نام نہاد ہمدردوں کے علاج میں وہ کہیں اپنی جان سے ہی نہ چلا جائے۔

ہم کو آپس میں

ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے

اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

Explanation: یہ معاشرے کے عقلمند اور تجربہ کار لوگوں پر طنز ہے جو رسم و رواج اور ذات پات کے نام پر دو محبت کرنے والوں کے درمیان رکاوٹیں ڈالتے ہیں، شاعر اسے ان کی سب سے بڑی خامی قرار دیتا ہے۔

ابھی تو بات کرو

ابھی تو بات کرو ہم سے دوستوں کی طرح

پھر اختلاف کے پہلو نکالتے رہنا

Explanation: یہ باہمی اختلافات کو بھلا کر انسانیت کے ناطے مل بیٹھنے کا پیغام ہے کہ فی الحال ہم آپس میں خلوص اور دوستی سے بات چیت کر لیتے ہیں، بعد میں جو بھی سیاسی یا نظریاتی اختلافات ہیں ان پر لڑتے رہیں گے۔

حسن کو چاند جوانی

حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں

ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں

Explanation: محبوب کی تعریف کے لیے شاعرانہ تشبیہات کا سہارا لیا گیا ہے کہ اس کا حسن چاند کی طرح روشن اور اس کی جوانی کنول کے پھول جیسی نرم ہے، اور جب اس کا چہرہ سامنے آئے تو بے ساختہ شاعری تخلیق ہونے لگتی ہے۔

یوں تسلی دے رہے

یوں تسلی دے رہے ہیں ہم دل بیمار کو

جس طرح تھامے کوئی گرتی ہوئی دیوار کو

Explanation: یہ عشق میں مایوسی اور دل ٹوٹنے کی آخری کیفیت ہے کہ شاعر اپنے زخمی دل کو جھوٹی امیدوں سے اس طرح سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے جیسے کوئی کمزور شخص کسی زلزلہ زدہ اور گرنے والی دیوار کو ہاتھوں سے روکنے کی بے سود کوشش کرے۔

حالات سے خوف کھا

حالات سے خوف کھا رہا ہوں

شیشے کے محل بنا رہا ہوں

Explanation: شاعر کو علم ہے کہ معاشرے کے حالات بہت سنگین اور ظالمانہ ہیں، اور وہ ان حالات میں بھی نازک خوابوں اور محبت کے کمزور رشتے (شیشے کے محل) بنا کر جان بوجھ کر خود کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

رابطہ لاکھ سہی قافلہ

رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ

ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ

Explanation: یہ وقت کی ضرورت اور ارتقاء کو اپنانے کی تلقین ہے کہ چاہے ہمارے تعلقات اپنے پرانے لیڈروں اور روایات سے کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، لیکن ترقی کے لیے ہمیں پرانی چیزیں چھوڑ کر نئے زمانے کی رفتار کے ساتھ چلنا ہوگا۔

نہ جانے کون سی

نہ جانے کون سی منزل پہ آ پہنچا ہے پیار اپنا

نہ ہم کو اعتبار اپنا نہ ان کو اعتبار اپنا

Explanation: محبت کے رشتے میں بد اعتمادی کی انتہا ہو چکی ہے جہاں عاشق اور محبوب دونوں ہی ایک دوسرے کے خلوص پر شک کرنے لگے ہیں، اور ان کا یہ پیار اب ایک ایسی منزل پر کھڑا ہے جہاں سے واپسی یا آگے بڑھنا دونوں ہی ناممکن معلوم ہوتے ہیں۔