Skip to content

Qateel Shifai

شمع جس آگ میں

شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے

ہم اسی آگ میں گم نام سے جل جاتے ہیں

Explanation: یہ دکھلاوے کی محبت اور سچے عشق کا فرق ہے، شمع جل کر دنیا کو روشنی دکھاتی اور اپنا نام بناتی ہے، جبکہ ہم جیسے سچے عاشقوں کے سینے میں جو عشق کی آگ جلتی ہے وہ دنیا کی نظروں سے چھپی رہتی ہے اور ہم خاموشی سے اس میں راکھ ہو جاتے ہیں۔

یارو یہ دور ضعف

یارو یہ دور ضعف بصارت کا دور ہے

آندھی اٹھے تو اس کو گھٹا کہہ لیا کرو

Explanation: یہ معاشرے کی آنکھیں بند کرنے کی عادت اور جھوٹی تسلی پر سخت طنز ہے کہ آج کل کے لوگ سچائی دیکھنے سے اندھے ہو چکے ہیں، اس لیے اگر تباہی (آندھی) بھی آ رہی ہو تو تم اسے خوشحالی (بادلوں کی گھٹا) سمجھ کر خود کو دھوکہ دے لیا کرو۔

تمہاری بے رخی نے

تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی

تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

Explanation: محبوب کی نشیلی آنکھوں اور اس کے حسن کی تعریف ہے کہ یہ تو اچھا ہوا کہ تم نے بے رخی دکھائی، اگر تم مسکرا کر اپنی آنکھوں کی مستی سے ہمیں پلا دیتے تو پھر شراب خانے کے پیالے اور شراب کی کوئی اہمیت ہی نہ بچتی۔

کیا مصلحت شناس تھا

کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ

مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا

Explanation: یہ دنیا داروں کی چالاکی پر گہرا طنز ہے کہ وہ لوگ بہت ہوشیار تھے جنہوں نے دراصل اپنی بزدلی اور دنیاوی مجبوریوں کو چھپانے کے لیے اسے 'وفاداری' اور 'صبر' کا ایک خوبصورت نام دے کر پیش کیا۔

حوصلہ کس میں ہے

حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا

اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں

Explanation: یہ موجودہ دور کی مادیت پرستی اور مہنگائی پر مزاحیہ طنز ہے کہ آج کے دور میں محبت یا حسن خریدنے (جیسے یوسفؑ کا بازارِ مصر میں بکنا) کی کسی زلیخا میں ہمت نہیں، کیونکہ اب تو محبت سے زیادہ ہر طرف صرف مہنگائی کے رونے روئے جاتے ہیں۔

وہ تیری بھی تو

وہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔ

پھر کیا ہوا اگر وہ بھی ہرجائی بن گیا

Explanation: شاعر خود کو تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ محبوب کے چھوڑ جانے پر اتنا ماتم مت کر، کیونکہ تو نے بھی تو پہلے کئی محبتیں کی ہیں، اگر اب تیرے محبوب نے بے وفائی کر کے کسی اور سے تعلق جوڑ لیا ہے تو اس میں کیا بڑی بات ہے۔

میں اپنے دل سے

میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا

جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے

Explanation: یہ ایک تلخ حقیقت کا بیان ہے کہ انسان کا دل کبھی کسی یاد سے مکمل خالی نہیں رہ سکتا، اگر وہ ایک محبوب کو بھلانے کی کوشش کرے گا، تو اس کی جگہ لینے کے لیے کوئی نہ کوئی اور شخص یا کوئی پرانا دکھ یاد آ ہی جائے گا۔

آیا ہی تھا ابھی

آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام

کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے

Explanation: یہ معاشرے کی منافقت اور سچائی سے نفرت کی انتہا ہے کہ جیسے ہی شاعر نے سچی محبت اور وفاداری کی بات کرنی چاہی، تو اسی کے اپنے قریبی دوستوں نے اس سچ کو دبانے کے لیے اس پر پتھر مارنے کی تیاری کر لی۔

سوکھ گئی جب آنکھوں

سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ

تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا

Explanation: جب آنکھوں میں موجود محبت کی خوبصورتی اور نرمی (نیلی جھیل) خشک ہو جائے، تو اس کے بعد دل میں پلنے والے دکھ اور مایوسیوں کا طوفان (زرد سمندر) بھی خاموش ہو جاتا ہے کیونکہ انسان میں محسوس کرنے کی طاقت ہی مر جاتی ہے۔

مانا جیون میں عورت

مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے

لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

Explanation: یہ محبوبہ کی بے وفائی پر ایک طنزیہ سوال ہے کہ روایتی طور پر کہا جاتا ہے کہ عورت صرف ایک بار سچا پیار کرتی ہے، اگر تم نے مجھ سے پیار کرنے کے بعد کسی اور سے پیار کر لیا تو کیا تم اس عورت کی ذات میں شمار نہیں ہوتیں۔

ترک وفا کے بعد

ترک وفا کے بعد یہ اس کی ادا قتیلؔ

مجھ کو ستائے کوئی تو اس کو برا لگے

Explanation: یہ محبوب کی ایک عجیب اور دل موہ لینے والی منافقت کا ذکر ہے کہ اس نے اگرچہ خود بے وفائی کر کے شاعر کو چھوڑ دیا ہے، لیکن جب کوئی دوسرا شخص شاعر کو تنگ کرتا ہے تو محبوب کو اس پر غصہ آتا ہے اور وہ اس کے لیے برا محسوس کرتا ہے۔

انگڑائی پر انگڑائی لیتی

انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی

تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی

Explanation: جدائی کی لمبی اور سست رفتاری سے کٹنے والی رات کا دکھ ہے کہ یہ رات انگڑائیاں لیتی ہوئی بہت سست روی سے گزر رہی ہے، اور اس اکیلے پن کی اذیت کا احساس کوئی بھی دوسرا انسان نہیں سمجھ سکتا۔

اپنے ہاتھوں کی لکیروں

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو

میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

Explanation: یہ محبوب کے لیے خود کو مکمل طور پر سونپ دینے کا اظہار ہے کہ میں دل و جان سے صرف تمہارا ہوں، اب تم چاہو تو میری قسمت کو اپنے ہاتھوں میں لے کر مجھے اپنی زندگی کا مقدر اور حصہ بنا لو۔

نکل کر دیر و

نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ بت خانہ

تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

Explanation: یہ معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے لوگوں کے لیے رواداری کا پیغام ہے کہ جب روایتی مذہب اور عبادات کی جگہوں (مسجد و مندر) سے کسی کو سکون نہ ملا، تو کم از کم مے خانے یا بت خانے (محبت کے مرکز) نے ان لاوارث لوگوں کو پناہ دے دی۔

اپنے لیے اب ایک

اپنے لیے اب ایک ہی راہ نجات ہے

ہر ظلم کو رضائے خدا کہہ لیا کرو

Explanation: یہ شدید بے بسی اور جبر کا سماجی طنز ہے کہ جب معاشرے میں ہر طرف ظلم کا راج ہو اور انسان مقابلہ نہ کر سکے، تو پھر خاموشی سے اس ظلم کو اللہ کی مرضی سمجھ کر برداشت کرنا ہی جینے کا واحد اور بزدلانہ راستہ رہ جاتا ہے۔

تیز دھوپ میں آئی

تیز دھوپ میں آئی ایسی لہر سردی کی

موم کا ہر اک پتلا بچ گیا پگھلنے سے

Explanation: یہ اچانک ملنے والی خوشی اور بچاؤ کا استعارہ ہے کہ زندگی کی سخت آزمائشوں کی دھوپ میں ہم موم کی طرح پگھلنے کے قریب تھے کہ خدا کی مہربانی سے اچانک کوئی ایسی راحت کی ہوا چلی جس نے ہمیں مکمل تباہی سے بچا لیا۔

کس طرح اپنی محبت

کس طرح اپنی محبت کی میں تکمیل کروں

غم ہستی بھی تو شامل ہے غم یار کے ساتھ

Explanation: یہ فیض کے انداز سے ملتا جلتا احساس ہے کہ شاعر اپنی محبت کو اس لیے پوری توجہ اور وقت نہیں دے پا رہا کیونکہ زندگی گزارنے، روٹی کمانے اور دیگر معاشرتی مسائل کا غم بھی اسے محبوب کے غم کے ساتھ ستاتا رہتا ہے۔

کیوں شریک غم بناتے

کیوں شریک غم بناتے ہو کسی کو اے قتیلؔ

اپنی سولی اپنے کاندھے پر اٹھاؤ چپ رہو

Explanation: یہ خودداری اور اپنے دکھ خود سہنے کا حوصلہ ہے، شاعر خود سے کہتا ہے کہ اس بے حس دنیا میں کسی سے ہمدردی کی امید مت رکھو، اپنے دکھوں اور موت کی صلیب کو خود اپنے کندھوں پر اٹھاؤ اور خاموشی سے اپنی منزل کی طرف چلتے رہو۔

ثبوت عشق کی یہ

ثبوت عشق کی یہ بھی تو ایک صورت ہے

کہ جس سے پیار کریں اس پہ تہمتیں بھی دھریں

Explanation: یہ انسان کی ایک تلخ اور عجیب نفسیاتی خامی کا ذکر ہے کہ ہم جس انسان سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں، اکثر اسی پر سب سے زیادہ شک کرتے ہیں، اس پر پابندیاں لگاتے ہیں اور بے وفائی کی تہمتیں دھرتے ہیں۔

یہ معجزہ بھی محبت

یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے

کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے

Explanation: سچے عشق میں قربانی کی انتہا کی التجا ہے کہ محبت کے رشتے میں وہ دن بھی آئے جب دنیا کا مارا ہوا پتھر محبوب کو لگے، لیکن اس درد کی شدت کو جسمانی طور پر عاشق محسوس کرے اور زخم عاشق کے جسم پر آئے۔