Explanation: عاشق محبوب کی دشمنی سہنے کو تیار ہے مگر بے گانگی کو نہیں، وہ کہتا ہے کہ بے شک تو مجھے مار ڈال، لیکن غیر بن کر نہیں بلکہ میرے قاتل اور محبوب کے روپ میں میرے قریب آ کر پیار سے میری جان لے لے۔
قتیل اپنا مقدر غم
قتیل اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے
Explanation: یہ زندگی کی تلخ مگر حقیقت پسندانہ سمجھ ہے کہ دکھ اور برے وقت کا آنا بھی ایک نعمت ہے، کیونکہ اگر مجھ پر غم نہ پڑتے تو مجھے کبھی پتا ہی نہیں چلتا کہ کون میرا سچا دوست ہے اور کون منافق اور پرایا ہے۔
صدمہ تو ہے مجھے
صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں
Explanation: جدائی کا دکھ اپنی جگہ، مگر شاعر اس بات پر زیادہ تکلیف میں ہے کہ اب جب ہم الگ ہو چکے ہیں تو کیا میرے اور تمہارے درمیان وہ تمام پرانے رشتے، وعدے اور رشتے داریاں بھی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں۔
رقص کرنے کا ملا
رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لیا پاؤں میں
Explanation: عشق کی راہ میں ہر مشکل کو بخوشی قبول کرنے کا استعارہ ہے کہ جب ہمیں محبت کے سمندر (آزمائش) میں اتر کر خوشیاں منانے کا حکم ملا تو ہم نے موت کے گرداب (بھنور) کو ہی اپنے پیروں کی پازیب بنا کر ناچنا شروع کر دیا۔
تھوڑی سی اور زخم
تھوڑی سی اور زخم کو گہرائی مل گئی
تھوڑا سا اور درد کا احساس گھٹ گیا
Explanation: یہ مسلسل اذیت سہہ کر انسان کا بے حس ہو جانے کا عالم ہے کہ جب محبوب کی طرف سے ظلم میں اضافہ ہوا اور زخم مزید گہرا ہوا، تو دراصل اس شدت کی وجہ سے شاعر کے اندر درد محسوس کرنے کی صلاحیت اور کم ہو گئی۔
قتیلؔ اب دل کی
قتیلؔ اب دل کی دھڑکن بن گئی ہے چاپ قدموں کی
کوئی میری طرف آتا ہوا محسوس ہوتا ہے
Explanation: محبوب کے انتظار کی شدید کیفیت ہے کہ عاشق کو اپنے ہی دل کی دھڑکتی ہوئی تیز آواز میں یہ گمان ہونے لگا ہے کہ جیسے کوئی دھیرے دھیرے چل کر اس کی طرف آ رہا ہے اور یہ کسی کے قدموں کی آہٹ ہے۔
اپنی زباں تو بند
اپنی زباں تو بند ہے تم خود ہی سوچ لو
پڑتا نہیں ہے یوں ہی ستم گر کسی کا نام
Explanation: شاعر محبوب کو طعنہ دے رہا ہے کہ میں تو کچھ نہیں بولوں گا، لیکن تم خود اپنے اعمال پر غور کرو کہ اگر زمانے نے تمہیں 'ظالم' کہنا شروع کر دیا ہے، تو کوئی انسان بلاوجہ اس قدر بدنام نہیں ہوتا، اس میں ضرور تمہاری زیادتیاں شامل ہیں۔
زندگی میں بھی چلوں
زندگی میں بھی چلوں گا ترے پیچھے پیچھے
تو مرے دوست کا نقش کف پا ہو جانا
Explanation: یہ سچی وفاداری اور تابعداری کا اظہار ہے کہ میں ساری زندگی تمہارے دکھائے ہوئے راستے پر چلوں گا، بس تم میرے سامنے رہ کر میری رہنمائی کرنا جیسے زمین پر قدموں کے نشان منزل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
تم آ سکو تو
تم آ سکو تو شب کو بڑھا دو کچھ اور بھی
اپنے کہے میں صبح کا تارا ہے ان دنوں
Explanation: وصال کی رات کو طویل کرنے کی آرزو ہے کہ اگر تم مجھ سے ملنے کے لیے آ جاؤ، تو ہم رات کو مزید لمبا کر لیں گے کیونکہ آج کل خوش قسمتی سے صبح کا ستارہ بھی ہماری مرضی اور اختیار میں چل رہا ہے۔
داد سفر ملی ہے
داد سفر ملی ہے کسے راہ شوق میں
ہم نے مٹا دئے ہیں نشاں اپنے پاؤں کے
Explanation: محبت کے راستے پر خاموشی سے چلنے کا اصول ہے کہ ہم نے عشق کے سفر میں کوئی داد یا مشہور ہونے کی خواہش نہیں کی، بلکہ ہم نے تو جان بوجھ کر اپنے قدموں کے نشان مٹا دیے ہیں تاکہ کسی کو ہماری نیکیوں یا قربانیوں کا پتہ نہ چل سکے۔
سوچ کو جرأت پرواز
سوچ کو جرأت پرواز تو مل لینے دو
یہ زمیں اور ہمیں تنگ دکھائی دے گی
Explanation: یہ انسان کے تخیل اور شعور کی لامحدود طاقت کی بات ہے کہ اگر ایک بار انسان کی سوچ کو آزاد ہو کر اڑنے کی طاقت مل گئی، تو یہ موجودہ زمین اور دنیاوی پابندیاں ہمیں بہت چھوٹی اور حقیر لگنے لگیں گی۔
بہ پاس دل جسے
بہ پاس دل جسے اپنے لبوں سے بھی چھپایا تھا
مرا وہ راز تیرے ہجر نے پہنچا دیا سب تک
Explanation: جس محبت کے راز کو عاشق نے اپنے دل کے احترام میں اپنے ہونٹوں سے بھی بیان نہیں کیا تھا تاکہ کوئی سن نہ لے، محبوب کی جدائی کے بعد اس کے رونے اور تڑپنے کی حالت نے وہ راز ساری دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔
میں گھر سے تیری
میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے
Explanation: محبوب کی محبت ایک ایسا پاکیزہ لباس ہے جس نے عاشق کو ہر قسم کی دنیاوی ہوس سے آزاد کر دیا ہے، جب وہ اس سچے جذبے کے ساتھ باہر نکلتا ہے تو اسے دنیا والوں کی برائیاں اور خامیاں (برہنگی) محسوس نہیں ہوتیں۔
نہ چھاؤں کرنے کو
نہ چھاؤں کرنے کو ہے وہ آنچل نہ چین لینے کو ہیں وہ بانہیں
مسافروں کے قریب آ کر ہر اک بسیرا پلٹ گیا ہے
Explanation: یہ انتہائی مایوسی اور قسمت کی خرابی کا نوحہ ہے کہ جب بھی زندگی کے سفر میں ہم کسی سہارے یا منزل کے قریب پہنچے اور ہمیں لگا کہ محبوب کی آغوش میسر آئے گی، عین اسی وقت وہ سہارا ہم سے چھین لیا گیا۔
برہمن کو گوائیں ٹھمریاں
برہمن کو گوائیں ٹھمریاں اس نے شوالے میں
خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں
Explanation: یہ ایک طنزیہ خراج تحسین ہے جس میں ایک ایسے آزاد خیال اور باغی شخص کی موت کا ذکر ہے جس نے اپنی زندگی میں ناممکن کام کیے، یہاں تک کہ اس نے ایک سنجیدہ پنڈت سے بھی مندر میں گانے (ٹھمری) گنوا لیے تھے۔
بے آبرو نہ تھی
بے آبرو نہ تھی کوئی لغزش مری قتیلؔ
میں جب گرا جہاں بھی گرا ہوش میں گرا
Explanation: یہ شاعر کی اپنی خودداری اور ہوش مندی کا اعلان ہے کہ بے شک مجھ سے محبت میں غلطیاں یا ٹھوکریں (لغزش) ہوئیں اور میں گرا، مگر وہ سب میں نے پورے ہوش و حواس میں اپنی مرضی سے کیا، کسی بے بسی کے عالم میں نہیں۔
چرس کی بو تجھے
چرس کی بو تجھے بتا دے گی
''یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے''
Explanation: یہ میر تقی میر کے مشہور شعر (یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے) کی ایک جدید اور مزاحیہ پیروڈی ہے، جس میں شاعر بتاتا ہے کہ یہ دھوئیں کے بادل دل جلنے کی وجہ سے نہیں بلکہ نشے کی لت (چرس) کی وجہ سے اٹھ رہے ہیں۔
کچھ دائرے سے بن
کچھ دائرے سے بن گئے سطح خیال پر
جب کوئی پھول ساغر مے نوش میں گرا
Explanation: ایک انتہائی خوبصورت منظر اور تخیل کی آمیزش ہے کہ جب شراب کے پیالے میں کسی نے ایک نازک پھول گرا دیا، تو اس کی لہروں کو دیکھ کر شاعر کے خیالات میں بھی پرانی یادوں کے دائرے پھیلنے لگے۔
ولی اس دور کا
ولی اس دور کا مانوں گا تجھ کو
جو رکشاؤں کے میٹر ٹھیک کر دے
Explanation: یہ جدید معاشرے کی کرپشن اور روزمرہ کے مسائل پر ایک زبردست طنز ہے کہ آج کے دور کا سب سے بڑا کرشمہ یا ولی (بزرگ) وہ شخص کہلائے گا جو عوام کو دھوکہ دینے والے ان رکشہ ڈرائیوروں کے کرائے کے میٹروں کو ایمانداری سے چلوا دے۔
بنائی جو بھی طرز
بنائی جو بھی طرز اس نے وہ فن کی جان ہوتی تھی
کہ اس میں اونٹ کی گردن سے لمبی تان ہوتی تھی
Explanation: یہ کسی گانے والے (موسیقار) کے عجیب و غریب انداز پر مزاحیہ طنز ہے کہ اس کی دھنیں فن موسیقی کا شاہکار اس لیے ہوتی تھیں کیونکہ وہ اس میں اتنی لمبی آواز (تان) کھینچتا تھا جو اونٹ کی گردن سے بھی زیادہ طویل محسوس ہوتی تھی۔